وفات مسیح اور احیائے اسلام

by Other Authors

Page 26 of 72

وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 26

I اس آیت کی رو سے ماننا پڑتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیران کے سامنے وفات پیشے کی بو بہ بہان قاطع پیش فرمائی وہ یقینا خدائی تقسیم سے تھی۔معلوم ہوتا ہے کہ حضور اپنی امرت کو یہ تاکیدی سبق دینا چاہتے تھے کہ رہ ہمیشہ صلیب پرستوں کے خلاف اپنے فارغ کے لیے وفات مسیح کے فولادی مورچے پر ڈٹے رہیں ورنہ جس طرح سے ہجری میں کفار کا لشکر اُحد کی پھاڑی کا درہ تعالی پا کر دوبارہ پڑھائی کر کے آگیا تھا اور مسلمانوں کی فتح عارضی طور پر شکست سے تبدیل ہو گئی تھی۔اسی طرح وفات مسیح کے مورچہ کو خالی پا کر عیسائیت کو بلغار کرنے کا موقع مل جائے گا اور مسلمانوں کی سطوت و شوکت خاک میں مل جائیگی۔قرآنی وحی کا نزول ہر کیف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عیسائیت کے خلاف اس زندہ اور محکم دلیل کو حضرت احدیت کی بارگاہ میں ایسی غیر معمولی قبولیت عطا ہوئی کہ اس کے ساتھ ہی قرآنی وحی اترنی شروع ہوئی۔اس موقع پر جو آیات نازل ہوئیں ان میں یہ آیت بھی تھی۔إذْ قَالَ اللهُ يعيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى وَ مُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا (آل عمران : آیت ٥٦ یعنی اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے رب کا وہ فضل یاد کر کہ جو اس نے عیسی علیہ السلام پر کیا اور بشارت دی کہ میں تجھے طبعی وفات ڈونگا یعنی تو صلیب پر نہیں مارا جائے گا اور تجھے وفات کے بعد اپنی طرف اُٹھاؤں گا اور جو الزامات تیرے پر لگائے جاتے ہیں ان سب سے تیرا پاک ہونا ثابت کر دونگا۔