وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 37
ہوگئی تھیں بالآخر ملت اسلامیہ میں نقب لگا کر اسرائیلیات کے انبار داخل کرنے اور عقیدہ حیات مسیح کا فتجبر پیوست کرنے میں کامیاب ہوگئیں اور اسے اسلام کے خلاف ایک تیز ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے لگیں۔اس سلسلے میں چوتھی صدی ہجری کے ایک بد زبان مسیحی شاعر کے چند اشعار ملاحظہ ہوں : سأَفْتَهُ أَرْضَ الشَّرْقِ طُرًّا وَ مَغْرِبا وَأَنْشُرُدِينَ الصَّلْبِ نَشَرَ الْمَعَالِم سلام نَعِيْنِى عَلَا فَوْقَ السَّمَوَاتِ عَرْشُهُ فَقَاذَا الَّذِي وَالاهُ يَومَ التَّقَاصُم صَاحِبْتُمْ فِي القُرْبِ أَوْرَى بِهِ الثَّرَى شدار وق و تدق الرها تبي (STUDIA ARABICA I, 1937, page 50 & MEDIEVAL ISLAM by Gustave E۔Von Grunebaum page 18) ترجمہ : میں مشرق و مغرب کے تمام ممالک کو فتح کروں گا اور نمیبی مذہب کو اس طرح پھیلا ؤں گا جس طرح نشان راہ پھیلائے جاتے ہیں۔حضرت علی کی شان تو یہ ہے کہ آپ کا عرش تمام آسمانوں سے بھی بلند تر ہے۔پیس کا میاب وہی ہے جس کو مقابلہ کے وقت حضرت →- سیسی کی مدد حاصل ہے۔گر جسے تم اپنا پیغیر مانتے ہو وہ (نعوذ باللہ ) خاک میں پڑا ہے اور مٹی نے اُسے تم کر دیا ہے اور (معاذ الند) بوسیدہ ہڈیوں کے درمیان ریزہ ریزہ ہو چکا ہے۔