وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 33
۳۳ (Silvestre de Sacy) داری کو لا کر رکھدیا ہے۔چنانچہ ایان فرانسیسی مفکر سونی وی یکی نے تو یہ مغالطہ دینے کی ناکام کوشش کی ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی نے وَمَا مُحَمَّدُ إِلا رَسُولُ کی جو آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضور سے قبل کے تمام نبیوں کی وفات کے ثبوت میں پیش فرمائی دو قرآن میں در اصل موجود ہی نہیں تھی اور ملین اس موقع پر محض صحابہ کی ڈھارس بندھانے کے لیے وضع کرلی گئی تھی۔(Bell's introduction to the Quran by W۔Montgomery Wall, page 51) معزز حاضرین اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اسلام اور قرآن کے دشمن اس عظیم الشان اجماع کی عظمت کو کم کرنے کے لیے کیا گیا حربے استعمال کرتے ہیں لیکن نویہ خُدا ہے گھر کی حرکت پر خندہ زن پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا اس اجماع کو تاریخ اسلام میں ہمیشہ بہت بڑی اہمیت حاصل رہے گی کیونکہ یہ اجتماع خلافت کے اجماع سے محبت بڑھ کر تھا اور بلا توقف اور بلا تردر واقع ہوا کسی ایک صحابی نے بھی مخالفت نہیں کی کسی نے کم نہیں مارا ، اور ایک آواز بھی اسکے خلاف نہیں اُٹھی اور شرعی حجت بھی صرف اجماع صحابہ ہی ہے۔پھر یہی وہ اجماع ہے جس سے متاثر ہو کہ دربار نبوی کے شاعر حضرت حسان بن ثابت نے آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کی شان میں مرثیہ کہا : كُنتَ السَّوادَ لِنَا ظِرِي : نَعَمِ عَلَيْكَ النَّاظِرُ من شاء بعدك تلمتُ : فَعَلَيْكَ كُنتُ أعاذر 140 ا شرح دیوان حسان بن ثابت الانصاري من مطبعة الرحمانية مصر اه اه ) اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم!! تو میری آنکھوں کی پتلی تھا۔میں تو تیرے مرنے سے