وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 11
نظریاتی قلعہ کو پاش پاش نہیں کر دیا وہ چکن سے نہیں بیٹھے۔ایک قرآنی پیشینگوئی آخری زمانے سے متعلق خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ آخری زمانہ میں بھی عیسائیت کا فتنہ عقیدہ حیات میتح کی آڑ میں ایک بار پھر زور پکڑ جائے گا جو اسلام کے لیے سخت مضر ہو گا اور امت مسلمہ کو بے روح ہے جان اور مروہ کر دے گا اس لیے اس نے اپنی آخری کتاب میں یہ پیشگوئی فرمائی : تكَادُ السَّمُوتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُ الأَرْضُ و تخر الجِبَالُ هَدَّاه (سورة مريم : ٩١) فرمایا وہ نازک وقت آنے والا ہے کہ قریب ہے کہ تثلیث کے غلبہ کے وقت آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہو جائے اور پھاڑ کر جاتیں یعنی قریب ہے کہ وہ استعبان جو اخلاص کی وجہ سے آسمانی کہلاتے ہیں گراہ ہو جائیں، زمینی آدمی بگڑ جائیں اور وہ ثابت قدم لوگ جو مضبوط پہاڑوں کے مشابہ ہیں گر جائیں۔وفات مسیح کا ثبوت تمین زاویہ ہائے نگاہ سے۔۔وہ قرآن مجید کا یہ بھی زندہ معجزہ ہے کہ اس نے سب سے بڑھ کر جس نبی کی وفات پر زور دیا ہے وہ حضرت مسیح علیہ اسلام ہی ہیں اور اس مضمون پر مختلف پہلوؤں سے اُس نے اِس طرح تکرار اور شدت کے ساتھ روشنی ڈالی ہے کہ انسانی عقل ورطہ حیرت میں گم ہو جاتی ہے مسیح نا سرتی کی شخصیت کو دنیا میں تین حیثیتوں سے تسلیم کیا جاتا ہے : انسانوں میں سے ایک انسان۔