وفات مسیح اور احیائے اسلام

by Other Authors

Page 12 of 72

وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 12

١٢ رسولوں میں سے ایک رسول۔مصنوعی خداؤں میں سے ایک ندا۔قرآن مجید نے ہر حیثیت سے اُن کی وفات کا اعلان عام فرمایا : ایک انسان کی حیثیت سے حضرت مسیح کی وفات کا ذکر درج ذیل آیت میں ملتا ہے : وَمَا جَعَلْنَا البَشَرِ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ انَا بِنْ مِتَ نَهُمُ الخلدون۔رالانبياء : ٣٥) یعنی ہم نے تجھ سے پلے کسی بشر کو غیر طبی عمر میں بخشی کیا اگر مرجائے تودہ غیر معمولی لمبی عمر تک زندہ رہیں گے۔خُلُود کے مفہوم میں حضرت امام راغب اصفہانی (متوفی ۵۲ھ) کی مشہور لغت مفردات القرآن کے مطابق یہ بات داخل ہے کہ ہمیشہ ایک ہی حالت میں رہے۔پھر فرمایا: ان ما تكونوا يُدْرِكُمُ الْمَوْتُ وَلَو كُنتُمْ فِي بُرُوج (النساء : آیت ۷۹ ) مشيدة یعنی تم جہاں کہیں بھی ہو موت تمہیں آپکڑے گی خواہ تم مضبوط قلعوں میں رہی کیوں نہ ہو۔حضرت علامه امام راغب اصفہانی نے بروج " کے معنے ستاروں کے بھی کئے ہیں (مفردات القرآن ) پس حضرت میشیح ناصری خواہ چاند اور دوسرے ستاروں اور سیاروں میں بھی پہلے جاتے پھر بھی وہ موت سے نہیں بچ سکتے تھے۔ایک رسول کی حیثیت سے حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی وفات کا ذکر تر آن عظیم نے کس پر شوکت انداز میں کیا ہے :