وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 40
۴۰ ہے کہ شبیہ صیح کسی اور شخص پر ڈال دی گئی مسلمانوں میں جب حیات مسیح کے خیالات داخل ہوئے تو یہ قصہ بھی لکن شبه لهم" کی تفسیر کے نام پر رائج کر دیا گیا۔حالانکہ قرآن وحدیث میں اس افسانے کا نام ونشان تک نہیں پایا جاتا۔اس آیت کا مطلب تو یہ تھا کہ صلیبی موت جو روحانی رفع کے مانع ہے حضرت شیخ پر ہرگز وار دنہیں ہوئی لیکن خدا نے اُن کو شبہ میں ڈال دیا کہ گویا جان سے مار دیا ہے ،حضرت مسیح اپنے مقصد بعثت میں کامیاب و کامران اور منظفر و منصور ہو کر اپنے مولائے حقیقی کے حضور پہنچ گئے اور آپ کا رفع روحانی ہوا۔یہ وہی کہ فع ہے جو ہر ایک مومن کے لیے وعدہ الہی کے مطابق ہونا ضروری ہے، اگر کافر کے لیے حکم ہے لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ ابْوَابُ السَّمَاءِ (الاعراف : آیتہ ( یعنی کافروں کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے یعنی ان کا رفع نہیں ہو گا ، ہاں مومنوں کے لیے دمایا : يرفع الله الذِينَ آمَنُوا مَنَا وَالَّذِينَ أوتُوا لَعِلْمَ دَرَتِ (سورة المجادلة : آيت۔ترجمہ : اللہ تم میں سے ایمان لانے والوں کا درجات میں رفع کرتا ہے۔ان حقائق کے با وجود فرقہ باسیید یہ کی سراسر جھوٹی کہانی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی تُم يَفْشُو الكذب " کے مطابق نیج اعوج کے زمانہ میں پھیلائی گئی مسلمانوں کی صفوں میں بہت سے دلچسپ اور عجیب و غریب تضادات کے مبالغہ ایر انوں کی مشہور ہوگئی جسر با خوی دی بجری کے تکلم حضر ابن حرم متونی ۲۵۰ در ساتویں دی جبری کے ہسپانوی مفت مقصر بو حیان نے اس مفروضہ داستان پر زبردست تنقید کی اور لکھا کہ اس سے کل حقائق بلکہ سب نبوتیں باطل ہو جاتی ہیں اور سفسطہ (یعنی بے دینی) کا باب کھل جاتا ہے۔نیز واضح کیا کہ حدیث نبوی سے اس قصے کا کوئی سراغ نہیں ملتا اس کا سرچشمہ اہل کتاب کی روایات ہیں۔رالفصل في المن والاهوال والنخل جلداث ونت المجر المحيط جلد ۳ مت ۳۹