وفات مسیح اور احیائے اسلام

by Other Authors

Page 39 of 72

وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 39

۳۹ مسیحی عقیدہ کے فروغ کا سبب در اصل اس مسیحی عقیدہ کے نہایت تیزی سے پھیلنے کا بنیادی سبب یہ تھا کہ نزول مسیح کی پیشگوئی کا مصداق یہودی اُمت کے نبی سید نا حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کو سمجھ یا گیا میں کی بنیاد العام ربانی کی بجائے محض اجتہاد ذاتی پڑھتی۔جنگوئیاں ہمیشہ استعارات و مجاز اسے لبریز ہوتی ہیں۔نہ قبل از وقت اُن کی پوری حقیقت نمایاں ہو سکتی ہے نہ اُن پر اجماع ہی ممکن ہے اور یہ پیشگوئی تو خاص طور پر متشابھات کی قبیل سے تھی۔جیسا کہ قریباً ساڑھے چھ سو سال قبل حضرت علی بن محمد بغدادی الصوفی رستوئی ۷۲۱ھ) نے اپنی تفسیر خازن (جلد) منٹ میں بتایا تھا۔البتہ حضرت محی الدین ابن عربی رمتونی ) اور بعض دوسرے صوفیاء نے حدیث لا المهدى الا عيسى ابن مريم اور اپنی کشفی و الہامی بصیرت کی روشنی میں یہ مسلک اختیار فرمایا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا آخری زمانے میں نزول دوسرے بدن میں ہوگا اور ان کی روح یعنی روحانیت مہدی موعود میں بروز کرے گی اور نزول سے فقط میں مراد ہے تفسیر محی الدین ابن عربی ص اقتباس الانوار مده ، از حضرت اکرام صابری خلیفہ حضرت شیخ سوندھا بتونی شاه آٹھویں صدی ہجری کے محقق و مورخ علامہ حضرت ابو الفداء حافظ ابن کثیر (متوفی سیم) کے علمی کمال کی داد دینا پڑتی ہے جنہوں نے اپنی کتاب البداية والنهاية عبده ام مِن المَسِيحُ الْمَهْدِى عَلَيْهِ السَّلام کی حقیقت افروز اصطلاح استعمال فرمائی۔با سیلید یہ افسانہ کا اسلام میں نفوذ اور علماء ربانی کی تنقید معزز حضرات با عیسائیوں کے فرقہ باسیلید یہ کے اس خود ساختہ قتہ کا ذکر به نیکا