وفا کے قرینے — Page 421
حضرت خلیفة المسح الامس ایدہ اللہ تعالی نصرہ العزیز 421 کبھی ناصر ، کبھی طاہر ، کبھی مسرور کا جلوہ حقیقت میں خلافت ہے ، خدا کے نور کا جلوہ ملی آخر کسے پائندگی اے ' انجمن والو یہی شیرازہ بند زندگی اے ' انجمن والو ای کشتی کو طوفانوں میں دست غیب کھتا ہے وساطت سے جماعت کی خدا خود ووٹ دیتا ہے خدا والوں کی منزل کا یہی رستہ ہے دنیا میں اسی سے عظمت توحید وابستہ ہے دنیا میں رفیض دل لہو کی ہر رگ و پے میں روانی ہے خلافت ہی سے وابستہ نظامِ زندگانی ہے اگر سینے میں دل قائم لہو بھی جوش وقوت بھی خلافت ہے اگر زندہ عمل بھی ، ذوق و جدت بھی فروغ محفل ملت ، چراغ انجمن یہ ہے مگر روح جماعت کے لئے مثل بدن یہ ہے ہے جو چمکے گا ابد تک وہ خلافت کا ستارہ یہ بحر نور ہے جس کا نہ ساحل نہ کنارہ ہے اگر اسلام ہم کرتے رہے آئین کی پابندی رہے گا تا ابد جاری یہ فیضانِ خداوندی