وفا کے قرینے — Page 422
حضرت خلیفة المسح الامس ایدہ اللہ تعالی نصرہ العزیز 42 عہد خامس میں نئے گھوڑوں پہ زمینیں ڈالو زندگی مکرم جمیل الرحمن صاحب، ہالینڈ پریشان سے بیدار ہوئی اک نئی شمع خلافت کی خلافت کی ضیا بار ہوئی پھر سے پروانے جلے ، روشنی غم خوار ہوئی روح تجدید وفا نغمہ سرا ہونے لگی دل ہوئے سجدہ کناں ، حمد و ثنا ہونے لگی خوف کی ساعت بے رنگ ادھر آئی ، گئی ہوئے تحلیل وساوس کے ہیولے بھی سبھی تخت جاناں پہ چمک اُٹھی نئی شانِ کئی نور لئے میر ہر پر میگرن نجس کی دعا جینگی قریه یار منور ابھرا وہ پیکر اُبھرا دائم یونہی آباد رہے سے مسرور شاد رہے اور اطاعت کے سوا کچھ نہ ہمیں یاد رہے د تمہیں کیمیا ہونے کے رستے میں قدم دھرنے کا وقت پھر آیا درست اپنی صفیں کرنے کا