وفا کے قرینے — Page 191
حضرت خلیفہ امسیح الثالث رحمه الله تعالی 191 یہ ناؤ و نوش راگ و رنگ و نغمہ ہائے جلترنگ یہ شبکدے یہ عشرتیں یہ ساقیان ماہ رنگ یہ سارے خرخشے فقط ہیں اک نوائے طبل جنگ کہ چھا چکی ہے شیطنت بساط آدمی ہے تنگ مئے وصالِ ایزدی پلانے والا آگیا اُٹھو دیار شرق سے جگانے والا آگیا فضا ہے سب دھواں دھواں اُفق افق ہے تیرگی مہیب سائے موت کے محیط کار زندگی برس رہی ہیں وحشتیں گھٹا ہے ظلم کی اٹھی چڑھا ہے شرق سے مگر پھر آفتاب زندگی پکڑ لو دامنِ یقیں بچانے والا آگیا اُٹھو دیار شرق سے جگانے والا آگیا