وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 451 of 508

وفا کے قرینے — Page 451

حضرت خلیفة اصبح الخامس ایده ال تعالى بنعبد العزيز 451 اک نظر کا صدقہ مکرم رشید قیصرانی صاحب مرا معتبر حوالہ کوئی ہے تو بس یہی ہے تری اک نظر کا صدقہ مری ساری زندگی ہے کہیں چاند رُت نے چھیڑا تیری دلبری کا قصہ کہیں پھول کی زبانی تیری بات چل پڑی ہے ترے رُخ کی روشنی میں کبھی رات مسکرائی ترے سائے کی بدولت کبھی دھوپ سانولی ہے ترے چشم ولب کے صدقے مرے ست سروں کے سائیں کہیں حرف دوستی ہے کہیں رسم نغمگی بڑی رونقیں ہیں جاناں تری چاہتوں کے ڈیرے کہیں مست مست میلے ، کہیں جشن آگہی ہے۔ہے مرے خواب کا مسافر کہیں پھر پلٹ نہ جائے یہی سوچ کر ہمیشہ مری نیند جاگتی ہے مرے شہر جاں کے یوسف کوئی بھیج اب نشانی تری راہ تکتے تکتے مری آنکھ بجھ گئی ہے