وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 434 of 508

وفا کے قرینے — Page 434

حضرت خلیفة المسح الامس ایدہ اللہ تعالی نصرہ العزیز 434 آتی ہے صدا روز شہیدوں کے لہو سے یہ دیپ ہواؤں سے بجھائے نہ بجھیں گے قسمت کا لکھا پڑھ نہیں سکتے ہو تو سُن لو دیپ بجھاؤ گے تو سو اور جلیں گے مانے نہ کوئی مانے مگر ایسا ہوا ہے گزرے ہوئے سو سال کی تاریخ گواہ ہے اک زندان میں بیٹھا ہوا قیدی کوئی بولا تسلیم ہے مجھ کو کہ مرا جرم وفا ہے ہاتھوں پہ مرے زخم جو تم دیکھ رہے ہو ٹوٹے ہوئے شیشوں کو اٹھانے کی سزا ہے تو سر عام کیا ہے گزرے ہوئے سو سال کی تاریخ گواہ ہے جرم اگر ہے جو لوگ جلا دیتے ہیں اوروں کا نشیمن وہ لوگ کبھی چین سے سویا نہیں کرتے اور جن کا نگہبان ہمیشہ سے خدا ہو گرداب ، سفینے وہ ڈبویا نہیں کرتے طوفان بھی کہتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا ہے گزرے ہوئے سو سال کی تاریخ گواہ ہے