وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 433 of 508

وفا کے قرینے — Page 433

حضرت خلیفة المسح الامس ایدہ اللہ تعالی نصرہ العزیز 433 پر نور خلافت کا دیا مکرم مبارک صدیقی صاحب گزرے ہوئے سو سال کی تاریخ گواہ ہے سائے کی طرح سایہ فگن ہم پہ خدا ہے اور رات جو آئے بھی تو پروانوں کو غم کیا جلتا ہوا پرنور خلافت کا دیا ہے قانون بنائے ہیں بہت اہلِ ستم نے اب لے نہ کوئی اُن کے سوا نام خدا کا ان سادہ مزاجوں سے کوئی جا کے یہ پوچھے بندے بھی بھی روک سکے کام خدا کا ساتھ اپنے محمد کی مسیحا کی دعا ہے گزرے ہوئے سو سال کی تاریخ گواہ ہے سجدوں میں لگا دیتے ہیں اشکوں کے نگینے دنیا کے خداؤں سے شکایت نہیں کرتے کچھ اور بڑھا دیتے ہیں کو اپنے لہو میں ہم تیز ہواؤں سے شکایت نہیں کرتے کردار کی عظمت کو سدا اونچا کیا ہے گزرے ہوئے سو سال کی تاریخ گواہ ہے