وفا کے قرینے — Page 435
حضرت خلیفة اصبح الخامس ایده ال تعالى بنصرہ العزیز 435 کچھ اس لئے ہجرت بھی ضروری تھی ہماری اُس شہر ستم گر میں جفاکار بہت تھے کچھ اُن کو بھی نفرت سے عقیدت تھی زیادہ کچھ ہم بھی محبت کے پرستار بہت تھے پہلے سے کہیں بڑھ کے ہمیں اس نے دیا ہے گزرے ہوئے سو سال کی تاریخ گواہ ہے برکت ہے خلافت کی کہ اک ہاتھ پہ یارو لاکھوں میں کروڑوں ہیں جو اک جان ہوئے ہیں میں ہیں جو طوفان کی مرضی تھی اُجڑ جائیں یہ لیکن ٹوٹے جو لگائے تھے گلستان ہوئے ہیں سب اس کی عطا ، اس کی عطا ، اس کی عطا ہے گزرے ہوئے سو سال کی تاریخ گواہ ہے مکرم خلیل احمد خلیل صاحب کراچی زیر سایہ آ گئے ہیں جو خلافت کے حلیل پہلے زرے تھے وہ اب روشن ستارے ہیں تمام