وفا کے قرینے — Page 322
حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحم الله تعالی 322 عبادت ہو سکے تاحق کی اطمینان سے ہر دم شریک اس کا کبھی ہر گز نہ ٹھہرائیں کسی کو ہم گراں کردار ہے مشرک کا اتنا حق تعالیٰ زمین و آسماں بھی کانپ اُٹھتے ہیں اُسے سُن کر وفا ہوتا رہا ہے اب تلک وعدہ یہ صدیوں سے سنہری دور اُمّت پر کئی آئے خلافت کے بحمد اللہ ملی ہے پھر یہ نعمت اہلِ ایماں کو سیخ وقت کے اس دور کے اصحاب ذیشاں کو اک ارشاد وعیدی بھی ہے اس وعدہ کے آخر میں یہ لازم ہے کہ مومن اس کو بھی پیش نظر رکھیں جو بیعت سے کسی راشد خلیفہ کی گریزاں ہے جماعت کی نظامت سے الگ رہنے پہ نازاں ہے سمجھتا ہے جماعت کی ضرورت ہی نہیں اُس کو خلافت کی قیادت کی ضرورت ہی نہیں اُس کو وہ ہر اک اجتماعی کام سے محروم رہتا ہے مهم خدمت اسلام سے محروم رہتا ہے