وفا کے قرینے — Page 462
حضرت خلیفة اسم الخامس ایدہ اللہ علی بنصرہ العزیز 462 میر کارواں مکرم یونس احمد خادم صاحب مجھے کیا خوف دنیا سے مجھے کیا غم حوادث کا میرے سر پہ ہے اب تک سائباں قائم خلافت کا خدا کی خاص ہے نظر عنایت آج کل جس پہ ہماری گردنوں میں ہے جواُ اس کی اطاعت کا وہ ہر فر د جماعت کے دلوں کی دھڑکنوں میں ہے خزینہ ہے دعاؤں کا ، محافظ ہے جماعت کا دل و جاں ہے میری وابستگی اک ناخدا سے ہے بھنور میں آنہیں سکتا سفینہ میری قسمت کا خدا سے دور ہوتی جا رہی ہے آجکل دنیا علم تھاما ہوا ہے آج تو نے ہی ہدایت کا پنا تجھ کو خدا نے باغبان گلشن احمد کہ میر کارواں ہے تو مسیحا کی جماعت کا مسیح پاک کے فرمان کا ہر لفظ بیچ نکلا کہ تو ہے ایک تابندہ نشاں اس کی صداقت کا نظام نو سے وابستہ ہے خادم امن دنیا کا زمانہ ہے فقط محتاج اب تیری قیادت کا