وفا کے قرینے — Page 461
حضرت خلیفة اصبح الخامس ایده ال تعالى بنعبد العزيز 461 خلافت سے وفا مکرم عبدالسلام عارف صاحب خلافت جوبلی ہے زندگی تسخیر کر لینا ہر اک روحانیت کے خواب کی تعبیر کر لینا سنو اے رہروان فاتح عالم کے میخوارو! کوئی اخلاق کا تازہ جہاں تعمیر کر لینا لگا کر جان کی بازی خلافت کے لئے ہر دم رضائے حق تعالیٰ کی کوئی تدبیر کر لینا سنبھل جانا ذرا ، متاع جاں کی آمد ہے تمنا کی ہر اک چادر پہ اک تصویر کر لینا خلافت کی طلب صدیوں سے ہی میراث ہے اپنی خلافت سے وفا آئندہ کی جاگیر کر لینا خلافت آسماں کا فیض ہے نور نبوت ہے خلافت سے ہی اب وابستہ ہر تقدیر کر لینا اٹھو کھاؤ قسم دامن خلافت کا نہ چھوڑو گے اطاعت کی تم اس کے گرد اک زنجیر کر لینا حوادث میں جو کشتی نوح میں بیٹھے ہو تم عارف تو پھر اعمال بھی زیتون اور انجیر کر لینا