وفا کے قرینے — Page 453
حضرت خلیفة اصبح الخامس ایده ال تعالى بنصرہ العزیز 453 جشن تشکر مکرمہ صاحبزادی امتہ القدوس بیگم صاحبہ آؤ! محبتوں کے ترانے سنائیں ہم بغض و عناد و کینہ سے دامن چھڑائیں ہم آؤ ! کہ سب کدورتوں کو بھول جائیں ہم عہد وفا جو باندھا ہے اس کو نبھائیں ہم کچھ اس طرح سے جشنِ تشکر منائیں ہم آؤ! کہ آج جشن تشکر منائیں ہم قدرت کا اسکی دائمی انعام ہے اسکی جناب سے ہمیں اکرام ملا ہے ملا عشق و وفا کی مے سے بھرا جام ہے ملا اہلِ جہاں کو پلائیں ہم کچھ اسطرح آؤ جام آؤ کہ آج جشن ہو دل پہ رقم وفاؤں کی تحریر بھی تو سینے پہ نقشِ یار کی تصویر بھی بھی تو ہو قربانیاں ہوں ، جذبہء شبیر بھی تو ہو بس اک زبان سے ہی نہ نعرے لگا ئیں ہم تشکر منائیں ہم تشکر منائیں ہم