وفا کے قرینے — Page 454
حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایده ال تعالى بنصر العزيز 454 کچھ اس طرح سے جشنِ تشکر منائیں ہم آؤ کہ آج جشن تشکر منائیں ہم شمی ہے چار سو ، ظلمت کا ہے وفور گر کوئی نور ہے تو خلافت کا بس ہے نور اسکے ہی دم سے اُس کی تجلی کا ظہور بڑھتا رہے یہ نور کریں یہ دعائیں ہم کچھ اس طرح سے جشنِ تشکر منائیں ہم آؤ! کہ آج جشن تشکر منائیں ہم اُس یارِ بے مثال کا دیدار ہو نصیب ذوق دعا و لذتِ و لذت گفتار ہو نصیب اسکی رضا نصیب ہو اور پیار ہو نصیب اب کجروی کو نفس کی اپنے مٹا مائیں کچھ اس طرح طرح سے جشنِ تشکر منائیں ہم آؤ کہ آج جشن تشکر منائیں ہم ہو ہم میں بھی کوئی حامل حق الیقین ہر دور میں کوئی نہ کوئی نور دین ہو فضل عمر ہو ناصر دین متین ہو طاہر سا بن کے جذبے دلوں کے لٹائیں ہم 6 ข کچھ اس طرح سے جشنِ تشکر منائیں ہم آؤ! کہ آج جشن تشکر منائیں ہم