وفا کے قرینے — Page 412
حضرت خلیفة المسح الخامس ایدہ اللہ علی بنصر العزيز 412 رحمت کی آبشار مگر مهارشا د عرشی ملک صاحبہ، اسلام آباد عرشی مری طرح سے سبھی کو ہے اعتبار موجیں ہوں سر پھری بھی تو پیڑہ لگے گا پار اپنا جو ناخُدا خُدا کا ہے منتخب ہم خوش نصیب نوح کی کشتی میں نہیں سوار فضل خُدا سے دور خلافت ہے پانچواں جاری ہے سو برس سے یہ رحمت کی آبشار اس میں نہا کے پاک و مطہر ہوئے بہت بس میں مرے نہیں کہ میں اُن کا کروں شمار عاجز ہیں خاکسار و اطاعت گزار ہیں ہم نے امام وقت کو دی نفس کی مہار نشر ہے عاجزی میں شراب طہور کا یہ ئے ہے پاک اور مزہ اس کا خوشگوار اُس کو بقا ملی ہے فنا جس نے کی قبول جو مٹ گیا خوشی سے ہوا خاک پائے یار