وفا کے قرینے — Page 413
حضرت خلیفة المسح الامس ایدہ اللہ تعالی نصرہ العزیز 413 مرشد کا قہر و مہر ہے یکساں اسے عزیز راہِ طلب میں حوصلہ جس کا ہے اُستوار اک ڈھال ہے امام، رہو اس کی آڑ میں اس ڈھال پہ اثر نہیں کرتا کوئی بھی وار صد شکر ہم ہیں آج خلافت سے منسلک چودہ سو سال جس کا رہا سب کو انتظار تشبیہ کس سے دوں میں خلافت کے فیض کو ساچ ہے یہ خُدا کا یہی حرف اختصار مکرم جمیل الرحمن صاحب ہالینڈ پہنائی اس نے تجھ کو خلافت کی یہ عبا ہم سب تیرے غلام، تو محبوب یار کا جو حکم ہو وہ نذر گزاروں میں سیدی ! اپنا تو کچھ نہیں ہے ترے جانثار کا