وفا کے قرینے — Page 277
حضرت خلیفہ امسیح الثالث رحمه الله تعالی 277 اب وہ ساحر ہے نہ جادو بھری باتیں اس کی خوں رُلا دیتی ہیں پہروں مجھے یادیں اس کی کر کے بے سایہ مجھے زیرِ زیر زمیں سویا ہے آج کھو کر اسے جانا کہ جہاں کھویا ہے مکرم عبدالحمید صاحب اس نے قوموں کو پلائی تھی شراب زندگی اُس کے سر پر تاج تھا قرآن کے انوار کا اہل دانش کہہ رہے ہیں بات کچی اور کھری ناصر دین محمد تو سراپا نور تھا