وفا کے قرینے — Page 278
حضرت خلیفة المسیح الثالث رحم اللہ تعالی 278 مکرم عبید اللہ علیم صاحب وہ رات بے پناہ تھی پناہ تھی اور میں اور میں غریب تھا جس نے یہ چراغ جلایا عجیب تھا وہ وہ روشنی کہ آنکھ اٹھائی نہیں گئی کل مجھ سے میرا چاند بہت ہی قریب تھا گئی مری دیکھا مجھے تو طبع رواں ہو مسکرا دیا تو میں شاعر ادیب تھا وہ ہر رکھتا نہ کیوں میں روح و بدن اس کے سامنے وہ یوں بھی تھا طبیب اور وہ یوں بھی طبیب تھا سلسلہ تھا اس کا خدا سے ملا ہوا ہو ، کہ لب کشا ، بلا کا خطیب تھا موج نشاط وسیل غم جاں تھے ایک ساتھ گلشن میں نغمہ سنج عجب عندلیب تھا میں بھی رہا ہوں خلوتِ جاناں میں ایک شام یہ خواب ہے یا واقعی میں خوش نصیب تھا حرف دعا اور دستِ سخاوت کے باب میں خود میرا تجربہ ہے وہ بے حد نجیب تھا