وفا کے قرینے — Page 276
حضرت خلیفة المسیح الثالث رحم اللہ تعالی 276 صاحبزادی امتہ الشکور صاحبہ آؤ مل جل کہ کریں اس یار کی باتیں لوگو تاکہ زندہ رہیں ذہنوں میں وہ یادیں لوگو ہم نے ہر حال میں اس شخص سے جینا سیکھا اشک آنکھوں کے بھی ہنستے ہوئے پینا سیکھا وہ مرا دوست بھی تھا مونس و غم خوار بھی تھا تھا ، وفادار بھی تھا میرا ہمراز تھا ، ہمدم وہ مرے پاس تھا جب غم بھی بھلے لگتے تھے خار رستے میں تھے ، پر پھول کھلے لگتے تھے جس کے آنے سے گلستاں میں بہار آئی تھی ہر نظر جس کی زمانوں کو سنوار آئی تھی جس کی باتوں میں ہوا کرتی تھی چاہت کتنی جس کے دیکھے ہی سے مل جاتی تھی راحت کتنی اس کے ہونٹوں کی جنسی اور وہ چہرے کا نکھار اس کی آنکھوں کی چنک دل کے لئے وجہ قرار سب کے ہی واسطے یکساں تھی محبت کیسی تھا نہ معلوم کہ ہوتی ہے عداوت کیسی