وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 274 of 508

وفا کے قرینے — Page 274

حضرت خلیفہ امسیح الثالث رحمه الله تعالی 274 جس کا چہرہ دیکھ کے تسکین پا جاتے تھے دل زندہ دل ، روشن جبیں ، شیر میں وہاں رخصت ہوا! جس کو ملتے ہی مہک اٹھتے امیدوں کے چمن ! وہ تو کل اور غنا کا ترجماں رخصت ہوا! کی تکلیفوں کو سُن کے حوصلہ دیتا رہا مونس و همخوار سب کا رازداں رخصت ہوا! کرب کے دریا میں غوطہ زن رہا اُس کا وجود غم مگر جس کا نہ ہو پایا عیاں رخصت ہوا! زخم جو دل پر لگے وہ بنتے بنتے سہہ گیا صاحب خندہ جبیں ، خندہ لباں رخصت ہوا! سنگ و ابریشم کی یکجائی سے تھا اُس کا خمیر نرم فطرت ، نرم خو ، پر سخت جاں رخصت ہوا! کر گیا تحریر ہر دل پہ وہ کچھ انمٹ نقوش دے کے اہل عشق کو سوز تیاں رخصت ہوا! اپنے رب کی ہر رضا پر جو سدا راضی رہا خوش دلی سے ہمرکاب قدسیاں رخصت ہوا! آخر دم تک بھی چہرے پہ رہا اس کے سکوں وه به این انداز سلین و اماں رخصت ہوا!