وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 275 of 508

وفا کے قرینے — Page 275

حضرت خلیفہ امسیح الثالث رحمه الله تعالی 275 مسکرانے کی سدا ، تلقین جو کرتا رہا چھوڑ کے آنکھوں میں اب سیل رواں رخصت ہوا ! گرد جس کے کھینچ رکھا تھا حفاظت کا حصار چھوڑ کے کیسے اُسے تنہا یہاں رخصت ہوا! یہ ہماری ہے تو پھر جو اُس کی حالت ہو سو ہو اُس کی نظروں میں تو گویا گل جہاں رخصت ہوا! شکر اللہ کہ کڑے لمحوں کی سختی مٹ گئی فضل ربی سے وہ ہنگام گراں رخصت ہوا! پھر خُدا کے فضل سے اک سائباں حاصل ہوا لوگ تو سمجھے تھے سر سے سائباں رخصت ہوا! یاد پھر رہ رہ کے اُس کی دل کو تڑپانے لگی وہ مرا محبوب آقا اب کہاں؟ رخصت ہوا! اُس کے جانے سے پرانے زخم بھی رسنے لگے کر کے تازہ پھر سے یادِ رفتگاں رخصت ہوا! ، خوشی اس کارواں کو رہنما پھر مل گیا غم مگر ہے وہ امیر کارواں رخصت ہوا! یا الہی کیا کروں دل حوصلہ پاتا نہیں جس کو نظریں ڈھونڈتی ہیں وہ نظر آتا نہیں،