وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 176 of 508

وفا کے قرینے — Page 176

وہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ 176 وہ کہ مُردہ دلوں میں جو دم پھونک کر زندگی کے ترانے سناتا رہا ! جو سدا صبر کا درس دیتا رہا جو مصائب میں بھی مسکراتا رہا وہ 3۔" شفقتیں دشمنوں بھی کرتا رہا محبت کا اک بحر زخار تھا ڈانٹتا بھی رہا تربیت کے کے لئے اُس کے غصے میں بھی لایک اک پیار تھا مرقع تھا علم اور عرفان کا! اک فراست ، ذہانت کا پیکر تھا وہ معرفت کے خزانے تھے حاصل اُسے کر روحانیت کا کا شناور شناور تھا وہ o اُس نے اپنی ذرا بھی تو پرواہ نہ کی اُس کے دل میں تو بس اک یہی تھی لگن ہو خزاں کا تسلط نہ گلزار لہلہاتا رہے دین حق کا چمن وہ کہ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کے رویا کیا کہ جماعت دنیا میں پھولے پھلے رحمت حق رہے اس سایہ فگن چشمہ فیض حق اس میں جاری رہے