وفا کے قرینے — Page 169
حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ 169 رکھتا ہے عجب شانِ خُدا نام خلافت مکرم روشن دین تنویر صاحب ملتا ہے اُسی قوم کو انعام خلافت ہو جس کا عمل لائق اکرام خلافت خورشید جهانتاب نبوت کی کرن سے رخشندہ ہیں دیوار و در و سلسلہ در سلسلہ قائم ہے ہدی کا بام خلافت پیغامِ نبوت ہی ہے پیغام خلافت پھر شور اُٹھا خُم كدة مصطفوی میں پھر دور میں لائے ہیں وہی جام خلافت شاہی میں گدائی ہے گدائی میں ہے شاہی خُدا نام خلافت رکھتا ہے عجب شانِ آغاز کیا پھر جو مسیحائے زماں نے تا روز قیامت نہیں انجام خلافت یہ ہے دین کا اک نکتہ باری آزاد وہی ہے کہ جو ہے دام خلافت