وفا کے قرینے — Page 155
حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ 155 خدا نے خود اسے فضل عمر، کہہ کے پکارا تھا عمر سا دبد به ویسی ہی شوکت اس کو حاصل تھی وہ نور آسمانی تھا زمیں پہ جو اتر آیا کلمۃ اللہ ہونے کی سعادت اس کو حاصل تھی وجیہہ و پاک لڑکے کی خدا نے خود خبر دی تھی عجب رنگ ذکا، شانِ وجاہت اس کو حاصل تھی وہ ذہن و فہم کی جس کے خدا نے خود گواہی دی ذہانت اس کو حاصل تھی ، فراست اس کو حاصل تھی یہ ممکن ہے اسیروں کے جہاں میں رستگار آئیں، کہاں وہ بات لیکن جو فضیلت اس کو حاصل تھی جو نظروں کو جکڑ لے ایسی صورت کا وہ مالک تھا دلوں کو کھینچ لے جو ایسی سیرت اس کو حاصل تھی تبسم زیر لب ، روشن جبیں ، روئے گلاب آسا جو یوسف کو ملی تھی ایسی طلعت اس کو حاصل تھی وہ اس کی زندگی کے سعی پیہم سے عبارت تھی نہ دن کا چین، نہ شب کی فراغت اس کو حاصل تھی