وفا کے قرینے — Page 154
حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ 154 حضرت خلیفہ المسح الثانی مصلح موعود کی یاد میں محترمہ صاحبزادی امتہ القدوس بیگم صاحبہ عجب محبوب تھا سب کی محبت اس کو حاصل تھی دلوں میں جڑ ہو جس کی ، وہ عقیدت اس کو حاصل تھی ہیں سب یہ جانتے کہ کام معمولی نہ تھا اس کا کہ مامور زمانہ کی نیابت اس کو حاصل تھی اُسے قدرت نے خود اپنے ہی ہاتھوں سے سنوارا تھا تھا جس کا شاہکار اس کی ضمانت اس کو حاصل تھی علوم ظاہری اور باطنی سے پڑ تھا گر سید تو میدانِ عمل میں خاص شہرت اس کو حاصل تھی اولوالعزم و جواں ہمت، تھا وہ عالی گہر ایسا زمانے بھر سے ٹکرانے کی ہمت اس کو حاصل تھی رضا کے عطر۔وح کر کے اُس کو بھیجا تھا وہ ایسا گل تھا کہ ہر گل کی نگہت اس کو حاصل تھی اُسے ملتا تھا جو بھی وہ اسی کا ہو کے رہ جاتا کہ دل تسخیر کر لینے کی قوت اس کو حاصل تھی اُٹھاتا تھا نظر اور دل کے اندر جھانک لیتا تھا خدا کے فضل سے ایسی بصیرت اس کو حاصل تھی