وفا کے قرینے — Page 117
حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ 117 تابنده و پائندہ رہے بزمِ جہاں میں وه زنده و فرخندہ رہے بزمِ جہاں میں اس روکش مهتاب مہتاب سے ہر ذرہ ہو وہ روشن تنویر جهانتاب سے ہر ذرہ ہو روشن ه چرخ خلافت پہ درخشاں رہے ہر دم وہ صورتِ قندیل فروزاں رہے ہر دم ہم اُس کی شعاعوں سے اندھیروں کو مٹا دیں اختر دل انسان کو پھر اک بار جگا دیں مکرم عبدالرشید تبسم صاحب گدایان محمد کو کیا تو نے یوں صف آرا کہ اب ان کے مقابل شان سلطانی نہیں ہوگی تجھے ہر دور کے تاریخ داں ڈھونڈیں گے دنیا میں تری وہ شخصیت ابھرے گی جو فانی نہیں ہوگی