اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 604 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 604

اسوہ انسان کامل 604 آنحضرت ﷺ کی خداداد فر است و بصیرت بھی نور بھر دے۔مولیٰ ! میر انور بڑھا دے اور مجھے نور عطا کر دے اور مجھے سراپا نور ہی بنادے۔(ترمذی )5 پیشانی کے آثار سے پہچان رسول اللہ کی فراست کی یہ گواہی بھی قرآن شریف میں ہے کہ آپ حاجت مندوں کو ان کے چہرے کے آثار سے پہچان لیتے ہیں (سورۃ البقرہ: 247) آپ نے فرمایا "مسکین وہ نہیں ہوتا جو لوگوں کے گھروں میں جا کر ایک دو لقمے یا کھجوریں مانگتا پھرے بلکہ مسکین وہ ضرورت مند ہے جسے ایسی آسائش میسر نہ ہو جو ا سے سوال سے بے نیاز کر دے مگر وہ لوگوں سے مانگتا نہیں پھرتا۔نہ ہی عام لوگوں کو اس کی حالت کا علم ہوتا ہے کہ وہ اس کو صدقہ دے سکیں“۔(مسلم )6 ایک دفعہ رسول کریم ﷺ مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک نادار شخص اندر آیا۔آپ نے فرمایا لوگو! صدقہ دو۔کچھ لوگوں نے صدقہ دیا۔آپ نے اس میں سے دو کپڑے اس مفلوک الحال کو عطا فرمائے اور دوبارہ ارشاد فرمایا کہ لوگو! صدقہ دو تو اس شخص نے اپنے دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا صدقہ میں دے دیا آپ نے فرمایا تم نے دیکھا نہیں کہ یہ شخص خستہ حال مسجد میں آیا مجھے امید تھی کہ تم اس کی حالت دیکھ کر صدقہ کرو گے مگر تم نے صدقہ نہ کیا تو مجھے کہنا پڑا کہ صدقہ دو پھر تمہارے صدقہ میں سے میں نے اسے دو کپڑے دیئے اور کہا صدقہ دو تو اس شخص نے ان دو کپڑوں میں سے ایک صدقہ میں دے دیا۔اور مجھے اسے ڈانٹ کر کہنا پڑا کہ اپنا کپڑ اواپس لے لو۔( احمد )7 اس بصیرت روحانی کا ایک اور شاندار نظارہ حضرت ابو ہریرہ یوں بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ شدت فاقہ سے میرا بُرا حال تھا اور میں نے بھوک کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھ رکھے تھے۔میں اس رستے پر بیٹھ گیا جہاں سے لوگ گزرتے تھے۔حضرت ابو بکر وہاں سے گزرے تو میں نے ان سے قرآن کی ایک آیت کے بارے میں پوچھا۔مقصد یہ تھا کہ وہ مجھے کھلا پلا کر سیر کر دیں۔مگر وہ چلے گئے اور ایسا کچھ بھی نہ کیا۔پھر میرے پاس سے حضرت عمرؓ گزرے ان سے بھی میں نے اپنی اسی غرض سے قرآن کی ایک آیت کی تفسیر پوچھی۔وہ بھی چلے گئے اور میرے لئے کچھ نہ کیا۔پھر میرے پاس سے حضرت محمد مصطفی کا گزر ہوا۔میرے کچھ پوچھنے سے پہلے ہی آپ مجھے دیکھ کر مسکرا دئے۔وہ میرے چہرے کے آثار دیکھ کر میرے دل میں جو کچھ تھا اس کی ساری حقیقت جان گئے اور فرمایا ابو ہریرہ ! میں نے عرض کیا لبیک یا رسول اللہ ! فرمایا ” میرے ساتھ چلو میں آپ کے پیچھے ہو لیا۔آپ اپنے گھر تشریف لے گئے اور مجھے بھی اندر بلالیا۔گھر میں آپ نے دودھ کا ایک پیالہ موجود پایا۔گھر والوں سے پوچھا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا ؟ انہوں نے بتایا فلاں شخص نے تحفہ بھیجا ہے۔آپ نے فرمایا ابو ہریرہ! جاؤ اور مسجد سے اصحاب صفہ کو بلا لاؤ۔یہ وہ لوگ تھے جن کا اپنا کوئی گھر بار نہ تھا اور حضور کے تحفے تحائف پر ہی اُن کا گزارہ ہوتا تھا۔مجھے یہ بات اچھی نہ لگی کہ اتنا تھوڑا سا دودھ کیسے اصحاب صفہ میں پورا پڑے گا جبکہ اپنی بھوک مٹانے کے لئے اس دودھ کا سب سے زیادہ حقدار میں اپنے آپ کو ہی سمجھتا تھا۔مجھے یہ خیال بھی آیا کہ جب وہ لوگ آئیں گے تو حضور مجھے ہی ارشاد فرمائیں کہ میں ان میں دودھ بانٹوں۔مجھے امید نہ تھی کہ میرے لئے بھی کچھ دودھ بچ رہے گا۔مگر اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کے سوا میرے لئے کوئی چارہ نہ تھا۔خیر میں انہیں بلالا یا