اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 596 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 596

596 اسوہ انسان کامل نبی کریم " کا حسنِ مزاح اور بے تکلفی چھوٹے سے خیمے میں تھے ، میں نے سلام عرض کیا تو آپ نے فرمایا اندر آ جاؤ۔میں نے خیمہ کے چھوٹے سائز پر طنز کرتے ہوئے عرض کیا کہ کیا سارے کا سارا ہی آجاؤں۔آپ نے فرمایا ہاں سارے کے سارے ہی آجاؤ۔(ابوداؤد ) 17 ایک دفعہ حضرت صہیب رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضور کے سامنے کھجور میں اور روٹی پڑی تھی۔آپ نے صہیب کو بھی دعوت دی کہ شریک طعام ہوں۔صہیب روٹی کی بجائے کھجور زیادہ شوق سے کھانے لگے۔رسول کریم نے ان کی آنکھ میں سوزش دیکھ کر فرمایا کہ تمہاری ایک آنکھ دکھتی ہے۔اس میں اشارہ تھا کہ کھجور کھانے میں احتیاط چاہیے۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں صحت مند آنکھ والی طرف سے کھا رہا ہوں۔نبی کریم ﷺ اس مزاح سے بہت محظوظ ہوئے اور اس صحابی کی حاضر جوابی پر تبسم فرمانے لگے۔(احمد) 18 صلى الله با مقصد مزاح آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ہلکے پھلکے انداز میں مذاق کے رنگ میں تربیتی امور کی طرف توجہ دلا کر نصیحت فرما دیتے تھے۔حضرت خوات بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر میں میں نے رسول کریم کے ساتھ مرالظہران میں پڑاؤ کیا۔اپنے خیمہ سے نکلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ عورتیں ایک طرف بیٹھی باتیں کر رہی ہیں۔میں خیمہ میں واپس آیا اور اپنی ریشمی پوشاک پہن کر ان عورتوں کے قریب آکر بیٹھ گیا۔دریں اثناء رسول اللہ اپنے خیمہ سے باہر تشریف لائے۔مجھے دیکھا تو فرمانے لگے اے ابوعبد الله ! تم ان عورتوں کے قریب آکر کیوں بیٹھے ہو؟ میں نے رسول اللہ کے رعب سے ڈر کر جلدی میں یہ عذر گھڑ لیا کہ اے اللہ کے رسول ! میرا اونٹ آوارہ سا ہے، اسے باندھنے کو رسی ڈھونڈتا ہوں۔رسول کریم نے اپنی چادر او پر لی اور درختوں کے جھنڈ میں قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے۔وضوء فرما کر واپس آئے تو مجھے چھیڑتے ہوئے فرمانے لگے۔ابوعبداللہ ! تمہارے اونٹ کی آوارگی کا کیا حال ہے؟ خوات دل ہی دل میں سخت نادم تھے۔وہ کہتے ہیں ہم نے وہاں سے کوچ کیا رسول کریم ہر پڑاؤ پر مجھے دیکھتے ہی فرماتے۔”السلام علیکم۔اے ابو عبد الله تمہارے اونٹ کی آوارگی کا کیا حال ہے؟ خیر خدا خدا کر کے مدینہ پہنچے۔اب میں رسول کریم سے آنکھیں بچانے لگا اور رسول اللہ کی مجالس سے بھی کنی کترا جاتا۔جب کچھ عرصہ گزر گیا تو ایک روز میں نے مسجد میں تنہائی کا ایک وقت تلاش کر لیا اور نماز پڑھنے لگا۔اتنے میں رسول کریم اپنے گھر سے مسجد میں تشریف لائے اور آ کر نماز پڑھنے لگے۔آپ نے دو رکعت نماز مختصری پڑھی اور انتظار میں بیٹھ رہے۔میں نے نماز لمبی کر دی کہ شاید حضور گھر تشریف لے جائیں۔آپ نے یہ بھانپ کر فرمایا۔اے ابوعبدالله ! نماز جتنی مرضی لمبی کر لو۔میں بھی آج تمہارے سلام پھیرنے سے پہلے نہیں اٹھونگا۔میں نے دل میں سوچا کہ خدا کی قسم ! اب تو مجھے رسول اللہ سے معذرت کر کے بہر حال آپ کو راضی کرنا ہوگا۔جونہی میں نے سلام پھیرا۔رسول اللہ نے فرمایا۔السلام علیکم اے ابو عبد اللہ تمہارے اونٹ کی آوارگی اب کیسی ہے؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔جب سے میں