اسوہء انسانِ کامل — Page 595
اسوہ انسان کامل 595 نبی کریم " کا حسنِ مزاح اور بے تکلفی ایک دفعہ ایک بڑھیا عورت ملنے آئی۔آپ نے فرمایا بوڑھی عورتیں تو جنت میں نہ ہوں گی وہ رونے لگی۔آپ نے فرمایا بی بی آپ جوان ہو کر جنت میں جاؤ گی، یعنی وہاں بڑھا پا نہیں ہوگا۔اس پر وہ خوش ہوگئی۔آپ نے اپنی بات کی تائید میں سورۃ الواقعہ کی آیت بھی تلاوت فرمائی کہ ہم نے جنت کی عورتوں کونو عمر اور کنواریاں بنایا ہے۔(ترمذی)14 آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم عام گفتگو میں بھی توجہ اور سرعت فہم کے نتیجہ میں مزاح کا نکتہ پیدا کرلیا کرتے تھے۔ابورمہؓ اپنے والد کے ساتھ رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضور نے از راہ تعارف ان کے والد سے پوچھا یہ تمہارا بیٹا ہے؟ حضور کا زور یہ" پر تھا انہوں نے اپنی سادگی میں سمجھا کہ پوچھ رہے ہیں واقعی تمہارا ہی بیٹا ہے۔نہایت سنجیدگی سے کہنے لگے۔رب کعبہ کی قسم یہ میرا ہی بیٹا ہے۔حضور معاملہ سمجھ گئے مگر ان کے اصرار پر از را تفتن فرمایا واقعی پکی بات ہے؟ وہ اس پر اور سنجیدہ ہو کر کہنے لگے حضور میں پختہ قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ یہ میرا ہی بیٹا ہے۔رسول کریم یہ سن کر بہت محظوظ ہوئے اور ہنستے مسکراتے رہے۔خصوصاً ابور مٹہ کے باپ کی قسمیں کھانے کی وجہ سے حضور بہت محظوظ ہوئے، کیونکہ بچے کی شباہت والد سے اتنی ملتی تھی کہ اس کے نسب میں کسی شبہ کا احتمال نہ ہو سکتا تھا۔(ابوداؤد )15 بچوں سے مزاح رسول کریم بچوں سے بھی از راہ شفقت مذاق کرتے اور انہیں اپنے ساتھ مانوس رکھتے تھے۔اپنے ایک خادم انس کے ہاں گئے ، ان کے چھوٹے بھائی کو اداس دیکھ کر سبب پوچھا تو پتہ چلا کہ اس کی پالتو مینا مرگئی ہے۔آپ اس کے گھر جاتے تو اُسے محبت سے چھیڑتے اور کنیت سے یاد فرما کر کہتے۔اے ابو عمیر ( عمیر کے ابا ) تمہاری مینا کا کیا ہوا؟ اس طرح بچوں سے پیار بھرے مزاح سے باتیں کرتے تھے۔حضرت محمود بن ربیع نے کم سنی میں حضور کے محبت بھرے مزاح کی ایک بات عمر بھر یا درکھی۔وہ فرماتے تھے کہ میری عمر پانچ سال تھی حضور ہمارے ڈیرے پر تشریف لائے۔ہمارے کنوئیں سے پانی پیا اور بے تکلفی سے میرے ساتھ کھیلتے ہوئے ڈول سے پانی کی کلی میرے اوپر پھینکی۔( بخاری )16 ایک اور صحابی بیان کرتے ہیں کہ میں چھوٹا سا تھا کہ میرے والد مجھے رسول اللہ کے پاس لے کر آئے۔حضور کے دونوں شانوں کے درمیان گوشت کا ابھرا ہوا ایک ٹکڑا، کبوتری کے انڈے کے برابر تھا۔پرانی کتابوں میں اس نشان کو مہر نبوت کا نام دیا گیا تھا، جو آنحضور کی شناخت کی ایک جسمانی علامت تھی۔میں نے قمیص میں سے وہ گوشت کا ٹکڑا دیکھا تو اُس سے کھیلنے لگ گیا۔والد نے مجھے ڈانٹ دیا۔نبی کریم نے فرمایا بچہ ہے اسے کچھ نہ کہو، کھیلنے دو۔اپنے صحابہ میں بھی حضور نے حس مزاح بیدار کر دی تھی۔صحابہ جانتے تھے کہ اگر وہ مزاح کے رنگ میں حضور سے بات کریں گے تو حضور خوش ہوں گے ، ناراض نہ ہونگے۔حضرت عوف بن مالک کہتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک میں رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ چھڑے کے ایک