اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 493 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 493

493 ہمارے نبی حامی و ایامی کے والی اور محافظ اسوہ انسان کامل فضول خرچی نہ کی جائے البتہ اپنے لئے مال و جائیداد بنائے بغیر اپنے اوپر کھانے پینے کیلئے خرچ کر سکتے ہو۔یہ اجازت بھی تنگدست کے لئے بطور حق خدمت کے ہے جو مال یتیم میں تجارت وغیرہ کے لئے اپنا وقت صرف کرتا ہے۔آپ نے یہ ہدایت بھی فرمائی کہ یتیم کے مال کو بغیر تجارت میں لگائے اس طرح جمع کر کے نہ رکھو کہ زکوۃ کی ادائیگی سے وہ مسلسل کم ہوتا رہے۔(ترمندی 21 یتامی کے حق میں رسول اللہ اللہ کا مثالی نمونہ حقوق یتامی کے تحفظ کے لئے اس قدر باریک بینی سے تفصیلی تعلیم دینے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے نفسیاتی طور پر یتیم بچوں کو احساس کمتری سے بچانے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے اور ان کے حوصلے بڑھانے کے لئے ایک طرف ان کے لئے یتیم کا وہ لفظ استعمال کیا جو قرآن میں آپ کے لئے اللہ تعالیٰ نے استعمال کیا ہے۔دوسرے یہ اصولی وضاحت فرما دی کہ بلوغت کی عمر کو پہنچ جانے تک ہی یتیمی کا دور ہوتا ہے۔اس کے بعد کوئی یتیم نہیں۔(ابوداؤد )22 ہمارے آقا و مولی ہے کو یتامی کے حقوق کی اتنی فکر رہتی تھی کہ اپنے رب کے حضور مناجات کرتے ہوئے اس بارہ میں مدد کے بھی طالب ہو کر عرض کیا ”اے اللہ! میں ان دو کمزوروں ، یتیموں اور عورتوں کے حقوق ضائع ہونے سے سخت پریشان رہتا ہوں“۔(نسائی )23 صل الله حضرت عبداللہ بن مسعود کی بیوی حضرت زینب اپنے سابق مرحوم شوہر کے بچوں کی بھی پرورش کرتی تھیں۔انہوں نے رسول کریم ﷺ سے اس بارہ میں پوچھوایا کہ کیا میں اپنے زیر پر ورش بچوں پر صدقہ کر سکتی ہوں ؟ رسول کریم یا اے نے جواباً ارشاد فرمایا کہ تمہیں تو اس کا دوہرا اجر ہوگا۔ایک قرابت دار یتیم بچوں سے حسن سلوک کا اور دوسرے صدقہ کرنے کا۔(بخاری)24 حضرت بشیر عین عقربهہ جہنی کے والد احد میں شریک تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے جنگ احد کے دن رسول اللہ سے مل کو اپنے والد کے بارہ میں پوچھا! آپ نے فرمایا وہ شہید ہو گئے، اللہ تعالیٰ کی رحمت اس پر ہو ، میں یہ سن کر رونے لگا۔رسول کریم ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا، مجھے اپنے ساتھ سواری پر بٹھایا اور فرمایا کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ میں تمہارا باپ ہوں گا اور حضرت عائشہ تمہاری ماں۔( سیمی )25 غزوہ اُحد کے ایک اور شہید حضرت سعد بن ربیع تھے وہ صاحب جائداد تھے۔دو یتیم بچیاں پیچھے چھوڑ ہیں۔ابھی ورثہ کے احکام نہیں اترے تھے اور پرانے رواج کے مطابق یتیم بچیوں کے چانے بھائی کی جائداد سنبھال لی۔ایسے مسائل پیدا ہونے پر میراث کی آیات اتریں جن میں قریبی رشتہ داروں کے حصے مقرر کر دیئے گئے۔رسول کریم ﷺ نے ان یتیم بچیوں کے چچا کو بلوا کر ان احکام سے آگاہ کیا اور حضرت سعد کی دونوں بیٹیوں کو تیسرا تیسرا حصہ اور ان کی بیوہ کو آٹھواں حصہ دینے کی ہدایت فرمائی۔( ترندی )26 حضرت عبد اللہ بن جحش ام المؤمنین حضرت زینب کے بھائی نے احد میں شہادت کی دعا کی تھی۔جو قبول ہوئی اور وہ جوانی میں شہید ہو گئے۔رسول اللہ اللہ نے اس شہید احد اور اپنے نسبتی بھائی کی ذمہ داری و حفاظت جامدادخود سنبھال لی