اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 494 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 494

اسوہ انسان کامل 494 ہمارے نبی حامی و ایامی کے والی اور محافظ۔۔۔۔۔۔اور ترکہ کے انتظام کے علاوہ ان کے یتیم بیٹے محمد کے لئے خیبر میں زرعی اراضی خریدنے کا اہتمام فرمایا۔(استیعاب) 27 اسی طرح شہید احد حضرت حمزہ کی بیٹی فاطمہ مکہ میں یتیم رہ گئی تھی۔فتح مکہ کے موقع پر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بھائی بھائی کہتے ہوئے حاضر خدمت ہوئیں۔چونکہ یتیم بچی کی شادی نہ ہونے تک اس کی کفالت کی ذمہ داری ادا کرنی لازم ہے۔حضرت علیؓ اور حضرت جعفر کی خواہش تھی کہ اپنی اس چازاد بہن کی کفالت کا حق وہ ادا کریں۔جبکہ حضرت زید نے اپنے دینی بھائی حضرت حمزہ ( جن سے ان کی مواخات ہوئی تھی ) کی بیٹی اور اپنی بھتیجی کی کفالت کی پر زور پیشکش کی رسول اللہ اللہ نے فاطمہ کو حضرت جعفر" کے سپرد کیا کیونکہ بوجہ خالو ہونے کے ان کا دوہرا رشتہ تھا۔( احمد ) 28 الغرض صحابہ میں یتامیٰ کی کفالت کے لئے بھی ایک مسابقت کا جذبہ پایا جاتا تھا بعد میں حضرت فاطمہ کی وفات کے بعد حضرت علیؓ نے ان سے شادی کی اور اپنی وفات پر وصیت کی کہ میرے بعد اگر چاہو تو حضرت مغیرہ بن شعبہ سے نکاح کر لینا چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔احد کے ایک اور شہید حضرت عبداللہ تھے جنہوں نے اپنے پیچھے اپنے بیٹے حضرت جابر کے علاوہ نو (9) بیٹیاں چھوڑیں اور وہی ان کے واحد کفیل تھے۔آنحضرت نے اس خاندان کے ساتھ ہمیشہ محبت اور شفقت بھرا سلوک روا رکھا۔والد کی شہادت کے بعد حضرت جابرؓ کو مغموم دیکھ کر سبب پوچھا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ والد کی شہادت کے بعد بہنوں کی ذمہ داری کے علاوہ قرض بھی ہے۔حضور نے ان کو دلاسا دیا اور اس کے بعد ہمیشہ ان سے احسان کا سلوک فرماتے رہے۔سب سے پہلے خود موقع پر جا کر یہودی ساہوکاروں کا سارا قرض ادا کرنے کا انتظام کروایا۔پھر حضرت جابر چونکہ غیور نو جوان تھے اس لئے حیلوں بہانوں سے انہیں اس طرح عطا فرماتے رہے کہ ان کی عزت نفس میں بھی کوئی فرق نہ آئے۔ان کی شادی کے بعد ایک سفر میں ان سے ایک اونٹ خریدا اور پھر وہ اونٹ مع قیمت ان کو واپس کر کے ان کی امداد کے سامان کئے اور ان سے مزید وعدہ فر مایا کہ ”جب بحرین کا مال آئے گا تو میں اس اس طرح تمہیں دوں گا۔پھر حضرت ابو بکر کے زمانے میں جب وہ مال آیا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا وعدہ پورا کر دکھایا اور یوں وفات کے بعد بھی حضور کی حضرت جابر سے عنایات کا سلسلہ جاری رہا۔( ترمذی )29 تیموں کے لئے بھی رسول اللہ کا دل بہت نرم اور فراخ واقع ہوا تھا۔حضرت عبداللہ بن ابی اوفی سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم اللہ کے پاس بیٹھے تھے ایک بچہ نے آ کر عرض کیا یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں ایک یتیم بچہ ہوں، میری ایک یتیم بہن بھی ہے اور ہماری بیوہ ماں ہم قیموں کی پرورش کرتی ہے۔آپ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے اس کھانے میں سے جو آپ کے پاس ہے ہمیں اتنا عطا فرما دیں کہ ہم راضی ہو جائیں رسول اللہ نے فرمایا اے بچے !تم نے کیا خوب بات کی۔ہمارے گھر والوں کے پاس جاؤ اور جو کھانے کی چیز ان سے ملے وہ لے آؤ۔وہ آپ کے پاس گل اکیس کھجوریں لے کر یا حضور ﷺ نے کھجوریں اپنی تھیلی پر رکھیں اور ہتھیلیاں اپنے منہ کی طرف اُٹھا ئیں۔ہم نے دیکھا جیسے آپ اللہ تعالیٰ سے برکت کی دعا کر رہے ہوں۔پھر آپ نے فرمایا ” بچے اسات کھجور میں تمہارے لئے ،سات تمہاری ماں کے لئے اور سات تمہاری بہن کے لئے ہیں۔ایک کھجور صبح اور ایک شام کو۔جب وہ