اسوہء انسانِ کامل — Page 492
اسوہ انسان کامل 492 ہمارے نبی حامی و ایامی کے والی اور محافظ سے پیچھے کی طرف ہاتھ پھیر و۔گویا یتیم بچے کے ساتھ باپ سے زیادہ شفقت کے انداز سے برتاؤ کی ہدایت فرمائی۔حضرت عبد الرحمن بن ابری بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم یتیم کے لئے ایک محبت کرنے والے باپ کی طرح ہو جاؤ“۔( سیمی )12 حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کوگھروں میں سے سب سے پیارا گھر وہ ہے جس میں یتیم کی عزت کی جاتی ہے“۔(ابن ماجہ )13 دوسری روایت میں ہے کہ مسلمانوں کے گھروں میں بہترین گھر وہ ہے جس میں یتیم سے حسن سلوک ہوتا ہے اور مسلمانوں کا بد ترین گھر وہ ہے جس میں یتیموں سے بدسلوکی کی جاتی ہے۔( بیھقی )14 حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے۔اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کو عذاب نہیں دے گا ، جس نے یتیم پر رحم کیا اور اس سے نرم گفتگو کی اور اس کی یتیمی اور کمزوری کی حالت میں اس سے پیار کا سلوک کیا۔(ابوداؤد )15 حضرت ابوسعید بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یتیم کو لانے سے بچو کیونکہ رات کو جب لوگ سور ہے ہوتے ہیں تو اس کا رونا آسمان پر بڑی تیزی سے جاتا ہے۔(منذری )16 رسول اللہ ﷺ نے جہاں بیوگان کے حقوق قائم فرمائے وہاں ایسی بیوہ عورت کی قربانی کو بھی سراہا جو اپنے شوہر کے یتیم بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت کے لئے وقف ہو کر رہ جاتی ہے۔چنانچہ حضرت عوف بن مالک بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں اور زر در خساروں والی عورت قیامت کے دن ان دو انگلیوں ( درمیانی اور شہادت کی انگلی ) کی طرح ہونگے۔وہ صاحب حیثیت اور شکل وصورت رکھنے والی عورت جس کا خاوند فوت ہو گیا اور اس نے اپنے آپ کو اپنے یتیم بچوں کی خاطر وقف کر دیا یہاں تک کہ وہ خود اس سے جدا ہوئے یا فوت ہو گئے۔(ابوداؤد )17 حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے پہلے میں جنت کا دروازہ کھولوں گا تو اچانک دیکھوں گا کہ ایک عورت بڑی تیزی سے میری طرف آتی ہے۔میں اسے کہوں گا کہ آپ کون ہو اور آپ کو کیا ہوا۔وہ کہے گی کہ میں ایک ایسی عورت ہوں جو اپنے یتیم بچوں کی خاطر میں بیٹھ رہی تھی۔(ابو یعلی )18 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد آنیوالی فتوحات کے نتیجہ میں امت کو فراخی اور اموال عطا ہونے کی خبر دیتے ہوئے نصیحت کے رنگ میں فرمایا کہ بہترین مسلمان وہ صاحب دولت شخص ہوگا جو مسکین، یتیم اور مسافر کا حق ادا کرے۔( بخاری )19 نبی کریم نے یتیم کے مالی حقوق کی حفاظت کے لئے قرآنی تعلیم پر عمل کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ہلاک کرنے والی چند باتوں سے تنبیہ کرتے ہوئے یتیم کا مال کھانے کی ممانعت فرمائی اور اس کے قریب نہ جانے کی قرآنی ہدایت کے احترام میں یہاں تک فرمایا کہ حتی الوسع مال یتیم کی ذمہ داری اٹھانے سے بھی بچو۔(نسائی) 20 تا ہم ایسے مال کی نگرانی سپرد ہو جانے کی صورت میں آپ نے یہ ہدایت فرمائی کہ یتیم کے مال سے اسراف اور