اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 413 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 413

413 جنگوں میں رسول اللہ ﷺ کی حکمت عملی اسوہ انسان کامل کہ جان دے دیں گے مگر حضرت عثمان کا بدلہ لئے بغیر یہاں سے نہ نکلیں گے۔مسلمانوں کے اخلاص و وفا کی بناء پر یہ واقعہ بیعت رضوان سے معروف ہے۔جس نے کفار مکہ پر مسلمانوں کے مرنے مارنے پر تل جانے کے عہد کا ایسا رعب پیدا کر دیا کہ بالآخر انہوں نے صلح کرنے میں ہی عافیت جانی۔رسول اللہ کی فراست کا ایک اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ جب مشرکوں نے اپنے سردار سہیل بن عمرو کو بطور ایچی شرائط صلح طے کرنے کیلئے بھجوایا تو آپ نے اس کے نام سے ہی تفاءل لیتے ہوئے فرمایا کہ اب معاملہ آسان ہو گیا۔پھر واقعی سہیل کے ذریعہ شرائط صلح طے ہوئیں۔اگر چہ بظاہر وہ شرائکہ مسلمانوں کے خلاف نظر آتی تھیں۔قدم قدم کفار مکہ کی ان صلح میں روک بن کر آڑے آتی تھی تو رسول اللہ کی فراست و بصیرت اس کتھی کو سلجھانے میں کامیاب ہو جاتی۔آپ نے صلح کی خاطر کفار کے اصرار پر بسم اللہ کے ساتھ رحمان و رحیم نہ لکھنے پر اتفاق کیا، محمد رسول اللہ کی بجائے محمد بن عبد اللہ لکھنا قبول فرمایا۔مگر جب سہیل کے مسلمان بیٹے ابو جندل ( جو مسلمان ہونے کے جرم میں مکہ میں قید تھے اور زنجیریں تو ڑ کر حدیبیہ پہنچے تھے ) کی مکہ واپسی پر اصرار ہوا۔جب کہ ابو جندل دہائی دے رہا تھا کہ مسلمانو! کیا مجھے اس حال میں چھوڑ جاؤ گے( جبکہ مکہ سے بھاگ کر آنے والے مسلمانوں کو واپس لوٹانے کی شرط ابھی طے نہ پائی تھی ) تو اس رقت آمیز منظر سے صحابہ کے دل زخمی اور جگر پارہ پارہ تھے۔اس وقت تازہ عہد اطاعت ہی ان کو سنبھال رہا تھا۔چنانچہ انہوں نے رسول اللہ کی کامل اطاعت میں سر جھکا دیا۔پھر جب معاہدہ طے ہو جانے کے بعد رسول اللہ نے صحابہ سے فرمایا کہ اب اپنی قربانیاں میدان حدیبیہ میں ہی ذبح کر ڈالو۔غم سے نڈھال صحابہ صدمہ سے مدہوش ، بے حس و حرکت اور ساکت و جامد کھڑے تھے۔رسول خدا نے تین مرتبہ اپنا حکم دوہرایا کہ اپنی قربانیاں ذبح کر دو مگر کسی کو اس کی ہمت نہ ہوئی۔شاید وہ اپنے آقا کے عملی نمونہ کے منتظر تھے پھر جونہی رسول اللہ نے حضرت ام سلمہ کے مشورہ کے مطابق پہلے اپنی قربانی ذبح کر ڈالی تو صحابہ بھی دھڑا دھڑ قربانیاں ذبح کرنے لگے اور میدان حدیبیہ حرم بن گیا۔( بخاری )16 بعد کے واقعات نے ثابت کیا کہ حدیبیہ واقعی مسلمانوں کیلئے فتح مبین ثابت ہوئی۔ایک تو اس طرح کہ اہل مکہ سے معاہدہ کے بعد شمال کی جانب کے اس دشمن سے مسلمانوں کو امن ہوا تو اس کے تھوڑے ہی عرصہ بعد رسول اللہ کو یہود خیبر کے جنوبی خطرہ سے بھی نمٹنے اور خیبر فتح کرنے کا موقع میسر آیا۔یہ صلح حدیبیہ کی پہلی برکت تھی۔حدیبیہ کی اس شرط کی وجہ سے مکہ سے کوئی مسلمان بھاگ کر مدینہ نہیں آسکتا تھا اس لئے مکہ سے بھاگ کر آنے والے حضرت ابو بصیر نے مدینہ کی بجائے کچھ فاصلے پر آزادانہ طور پر اپنا الگ ڈیرہ جما کر مکہ کے کمزور مسلمانوں کے جمع ہونے کا موقع بہم پہنچا دیا اور کفار مکہ کے شام کے راستے میں ایک اور خطرہ پیدا کر دیا۔یہ اس معاہدہ کی دوسری کامیابی تھی۔تیسری کامیابی اس دور صلح میں تبلیغی خطوط کے ذریعہ مختلف قبائل اور بادشاہوں سے تبلیغی رابطے اور زمانہ جنگ کے مقابل پر بہت زیادہ لوگوں کا قبول اسلام ہے۔چوتھی بڑی کامیابی اس وقت ہوئی جب قریش کی عہد شکنی پر گرفت کرنے کے لئے رسول اللہ مدینہ سے نکلے اور بالآخر مکہ فتح ہوا۔اور صلح حدیبیہ واقعی «فتح مبین ثابت ہوئی۔