اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 412 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 412

412 جنگوں میں رسول اللہ ﷺ کی حکمت عملی اسوہ انسان کامل تھی مگر وہ بھی رسول اللہ اور حضرت ابو بکر کی تربیت یافتہ تھیں۔اپنی کم سنی کے باوجود ہو کر ان کا جواب بھی کمال فراست کا آئینہ دار ہے انہوں نے کہا مذکورہ الزام سن سن کر آپ لوگوں کے ذہن میں اتنا جم چکا ہے کہ میرے انکار پر میری برا اُت کوئی نہیں مانے گا۔پس میرے لئے حضرت یعقوب کی طرح صبر جمیل کے سوا کوئی چارہ نہیں۔اور مجھے یقین ہے کہ میرا رب ضرور میری برا ات فرمائے گا۔اسکے تھوڑی ہی دیر بعد رسول اللہ پر سورۃ نور کی وہ آیات اتریں جن میں حضرت عائشہ کی برا ات کا ذکر تھا۔( بخاری)15 یوں ایک خطر ناک فتنہ کا خاتمہ ہوا اور حکم الہی کے مطابق جھوٹی الزام تراشی کرنے والوں کو کوڑوں کی سزادی گئی۔صلح حدیبیہ میں بیدار مغزی جنگ بدر، احد اور احزاب میں اپنے مجموعی مالی و جانی نقصان کے علاوہ تجارت کے متاثر ہونے کے بعد اہل مکہ معاشی و اقتصادی لحاظ سے بہت کمزور ہو چکے تھے۔خصوصاً ملک شام سے ان کی تجارت بے حد متاثر ہوئی تھی جس کے راستہ میں مدینہ پڑتا تھا۔اسلئے وہ اس دباؤ اور کمزوری کی حالت میں کسی حل کے متلاشی تھے۔رسول اللہ کی فراست و بصیرت ان کی اس کمزوری کو بھانپ چکی تھی۔چنانچہ جب 6ھ میں رسول اللہ نے ایک رؤیا میں دیکھا کہ آپ اپنے صحابہ کے ساتھ امن سے طواف بیت اللہ کر رہے ہیں۔بظاہر یہ ایک عجیب خواب تھی کیونکہ وہاں مسلمانوں کے ایسے دشمن موجود تھے جنہوں نے ہجرت کے بعد سے ان کے حج وعمرہ پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔اس جنگی صورتحال کے باوجود آپ کا بے دھڑک عازم بیت اللہ ہو جانا صاف بتاتا ہے کہ آپ اس بصیرت پر قائم تھے کہ اب قریش میں کم از کم طواف کے ارادہ سے حرم جانے والے مسلمانوں سے جنگ کی سکت اور خواہش نہیں ہوگی۔چنانچہ آپ چودہ سو صحابہ کے ساتھ عربوں کے دستور کے مطابق امن کی علامت کے طور پر تلواریں میان میں لئے روانہ ہوئے مگر مکہ کے قریب حدیبیہ مقام پر روک دئے گئے۔اس دوران آپ کی تمام تر حکمت عملی صلح کے گرد گھومتی رہی۔آپ نے شروع میں واضح فرما دیا کہ صلح کی خاطر اہل مکہ جو لائحہ عمل بھی پیش گے ہم اسے قبول کریں گے اور پھر قریش کے ایلچیوں کی سخت شرائط کے باوجود آپ اپنے اس موقف پر آخر دم تک ڈٹے رہے۔قریش نے اپنی انا کی خاطر اس سال کے بجائے آئندہ سال عمرہ کرنے کی تجویز دی تو آپ نے حضرت عثمان بن عفان کو بطور سفیر کے بھجوایا تا کہ وہ سرداران قریش میں اپنے اثر ورسوخ سے اسی سال عمرہ کے لئے کوئی راہ تلاش کریں۔اس نازک صورتحال میں جب مذاکرات طویل ہو گئے تو ادھر اُن کی شہادت کی خبر مشہور ہوگئی۔موت پر بیعت سیہ وہ وقت تھا جب مسلمانوں کے جذبات سخت تلاطم میں تھے اگر ان کو سنبھال کر کوئی مناسب رخ نہ دیا جاتا تو شاید وہ ان کو قابو میں نہ رکھ سکتے۔سفیر کی حفظت و احترام کا مسئلہ اپنی جگہ اہم تھا رسول اللہ نے ایک بہترین قائد کی طرح صحابہ کے ان جذبات کو ایک نئی سمت دیتے ہوئے ہر قسم کی قربانی کیلئے تیار رہنے اور ہر حال میں اطاعت کیلئے موت پر بیعت لی