اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 414 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 414

اسوہ انسان کامل 414 جنگوں میں رسول اللہ ﷺ کی حکمت عملی غزوات میں خاموش پیش قدمی میں حسن ترتر مدینہ سے یہود کی جلا وطنی کے بعد خیبر میں ان کا ایک مضبوط مرکز بن گیا۔وہ مدینہ پر حملہ کے منصوبے بنا کر دھمکیاں دینے لگے۔ایسی نازک صورتحال میں حکمت کا تقاضا یہی تھا کہ دشمن کی طرف پیش قدمی کی حکمت عملی اختیار کر کے اپنا دفاع کیا جائے اور اسے مدینہ پر حملہ آور ہونے کا موقع نہ دیا جائے۔دوسرے یہ سب کچھ اس قدر خاموشی سے ہونا ضروری تھا کہ یہود کے حلیف قبائل غطفان وغیرہ ان کی مدد کو نہ پہنچ سکیں رسول اللہ اپنی اس حکمت عملی میں حیرت انگیز طور پر کامیاب ہوئے۔آپ ایک ماہر رہنمائے سفر کے ذریعہ تین ہزار کے لشکر کے ساتھ قریباً ڈیڑھ سومیل کا فاصلہ تیز رفتاری کے ساتھ تین راتوں کے مسلسل تھکا دینے والے سفر میں طے کر کے خیبر پہنچ گئے۔علی اصبح میدان خیبر میں داخل ہوتے وقت صحابہ کرام نے اپنی منزل پالینے کی خوشی میں نعرے بلند کرنے شروع کئے۔اس خاموش پیش قدمی میں نعروں کا یہ شور خلاف مصلحت تھا، آنحضرت تو یہود خیبر کے سر پر اچانک پہنچ کر انہیں حیران و ششدر اور مبہوت کرنا چاہتے تھے۔ان نازک لمحات میں آپ نے صحابہ کو موقع محل کی مناسبت سے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ نعرے تو ذکر الہی کے کلمے ہیں۔اور جس ہستی کو تم پکارتے ہو وہ نہ تو بہرہ ہے نہ غائب بلکہ وہ خوب سنتا ہے۔اس لئے دھیمی آواز میں ذکر الہی کرو۔( بخاری) 17 اور یوں اپنے پروگرام کے مطابق آپ خاموشی سے یہود خیبر کے عین سر پر جاپہنچے۔خیبر میں پڑاؤ کرتے ہوئے دوسری حکمت عملی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نےیہ اختیار فرمائی کہ لشکر کو پانچ حصوں میں قسیم کر کے قلعہ ہائے خیبر کے سامنے میدان میں اس طرح پھیلا دیا کہ سرسری نگاہ میں وہ ایک لشکر جرار نظر آتا تھا۔اس حکمت عملی میں جو دراصل دشمن کو اچانک حیران و ششدر کر دینے اور بوکھلاہٹ (Surprize) دینے کا حصہ تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حیرت انگیز کامیابی حاصل ہوئی۔18 واقعہ یہ ہوا کہ صبح جب قلعوں کے دروازے کھلے اور یہودی اطمینان سے معمول کی کھیتی باڑی اور کام کاج کیلئے اپنی کسیاں ، کدال ، ٹوکریاں لے کر باہر نکلنے لگے تو اچانک میدان خیبر میں چاروں طرف مسلمانوں کے پھیلے ہوئے لشکر کو دیکھ کر ان کے ہوش اڑ گئے۔مدینہ سے منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی نے یہود کو ٹھی بھر مسلمانوں کے خیبر پر چڑھائی کرنے کی اطلاع کی تھی۔اب اتنا بڑ الشکر دیکھ کر وہ حیران و ششدر یہ کہتے ہوئے واپس قلعوں کی طرف دوڑے۔کہ محمد اور اس کا پانچ دستوں والا لشکر۔خدا کی قسم محمد اور پانچ دستوں والا لشکر ( آن پہنچا )۔( بخاری ) رسول اللہ ﷺ یہود کوز بر دست حیرانی اور سرپرائز (Surprise) دے کر ایک اور فتح حاصل کر چکے تھے۔جس کے نتیجہ میں یہود خیبر کو مدینہ پر حملہ تو در کنار با ہر میدان میں نکل کر مقابلہ کی جرات بھی نہ ہوئی اور وہ محصور ہو کر رہ گئے۔رسول اللہ اللہ یکے بعد دیگرے قلعہ ہائے خیبر فتح کرتے چلے گئے اور یہود کو ایک کے بعد دوسرے قلعہ میں محصور ہونا پڑا۔آخری قلعہ میں یہود نے اپنا پورا زور لگا دیا تو اس کی فتح میں مشکل ہوئی۔آپ نے دعاؤں کے بعد اللہ تعالیٰ سے علم پا کر اپنے لشکر کے حو صلے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ کل میں ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں جھنڈا دوں گا جس