اسوہء انسانِ کامل — Page 395
اسوہ انسان کامل 395 غزوات النبی میں خلق عظیم دیکھئے رسول کریم کن لوگوں سے مخاطب تھے ؟ ان خون کے پیاسوں سے جن کے ہاتھ گزشتہ میں سال سے مسلمانوں کے خون سے لالہ رنگ تھے۔ہاں ! مسلمان غلاموں کو مکہ کی گلیوں میں گھسیٹنے والے مسلمان عورتوں کو بیدردی سے ہلاک کرنے والے، مسلمانوں کو انکے گھروں سے نکالنے والے اور خود ہمارے آقا و مولا کو تین سال تک ایک گھاٹی میں قید کر کے اذیتیں دینے والے، مسلمانوں پر حملہ آور ہو کر ان کی نعشوں کا مثلہ کرنے والے، آپ کے چا حمزہ کا کلیجہ چبانے والے، آپ کی صاحبزادی زینب پر حملہ کر کے حمل ساقط کرنے والے، لیکن جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہیں کس سلوک کی توقع ہے تو کہتے ہیں۔آپ جو چاہیں کر سکتے ہیں مگر آپ جیسے کریم انسان سے ہمیں نیک سلوک کی ہی امید ہے اس سلوک کی جو حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں سے کیا تھا۔“ سچا عفو لوگ مکہ میں رسول اللہ کے داخلہ کو فتح قرار دیتے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ حضرت محمد مصطفی کی حقیقی فتح تو آپ کے خلق عظیم کی فتح تھی جس کا دشمن بھی اعتراف کر رہا تھا کہ اب تک جس وجود سے صرف اور صرف رحمت ہی ظاہر ہوئی آج بھی اس سے رحمت کی امید کیوں نہ رکھیں؟ مگر رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ان کی توقعات سے کہیں بڑھ کر ان سے حسن سلوک کیا۔آپ نے فرمایا إِذْ هَبُوا أَنْتُمُ الطَّلَقَاءُ لَا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللهُ لَكُمْ کہ جاؤ تم سب آزاد ہو صرف میں خود تمہیں معاف نہیں کرتا ہوں بلکہ اپنے رب سے بھی تمہارے لئے عفو کا طلب گار ہوں۔( ابن ھشام ) 79 یہ وہ سچا عفو تھا جس کے چشمے میرے آقا کے دل سے پھوٹے اور مبارک ہونٹوں سے جاری ہوئے۔اس رحمت عام اور عفو تام کو دیکھ کر دنیا انگشت بدنداں ہے۔مستشرقین بھی اس حیرت انگیز معافی کو دیکھ کر اپنا سر جھکا لیتے ہیں اور اس عظیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں۔چنانچہ مسٹر آرتھر نے فتح مکہ میں آنحضور کی رحمت وشفقت کے نظارہ پر یوں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ر فتح مکہ کے اس موقع پر یہ بات ان کے حق میں جائے گی اور وہ قابل تعریف ٹھہریں گے کہ اُس وقت جب کہ اہل مکہ کے، ماضی کے انتہائی ظالمانہ سلوک پر انہیں جتنا بھی طیش آتا، کم تھا اور ان کی آتشِ انتقام کو بھڑ کانے کے لئے کافی تھا۔مگر انہوں نے اپنے لشکر وسپاہ کو ہر قسم کے خون خرابے سے روکا ، اور اپنے اللہ کے سامنے انتہائی بندگی وعبد یت کا مظاہرہ کیا اور شکرانہ بجالائے۔صرف دس بارہ آدمی ایسے تھے جنھیں پہلے سے ہی ، ان کے وحشیانہ رویہ کی وجہ سے جلا وطن کر دیا گیا تھا اور ان میں سے بھی صرف چار کوقتل کیا گیا۔لیکن دوسرے فاتحوں کے وحشیانہ افعال وحرکات کے مقابلہ میں، اسے بہر حال انتہا درجہ کی شرافت و انسانیت سے تعبیر کیا جائے گا ( مثال کے طور پر صلیبیوں کے مظالم ، کہ 1099ء میں فتح یروشلم کے موقع پر انہوں نے ستر ہزار سے زائد مسلمان مرد، عورتوں اور بچوں کوموت کے گھاٹ اتارا، یا وہ انگریز فوج