اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 396 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 396

اسوہ انسان کامل 396 غزوات النبی میں خلق عظیم جس نے صلیب کے زیر سایہ لڑتے ہوئے 1874ء میں افریقہ کے سنہری ساحل پر ایک شہر کو نذرآتش کر ڈالا ) محمد (ﷺ) کی فتح در حقیقت دین کی فتح تھی ، سیاست کی فتح تھی ، انہوں نے ذاتی مفاد کی ہر علامت کو پس پشت ڈالا اور کروفر شاہی کے ہر نشان کو مسترد کر دیا اور جب قریش کے مغرور و متکبر سرداران کے سامنے سرنگوں ہوکر آئے تو محمد (ﷺ) نے اُن سے پوچھا کہ تمہیں مجھ سے کیا توقع ہے؟ وہ بولے رحم، اے بنی و فیاض برادر ! رحم “ انہوں نے فرمایا "جاؤ تم سب آزاد ہو“۔( آرتھر 80 نفس پر فتح حاصل کرنے کا دن مشہور مستشرق سٹین لے پول لکھتا ہے اب وقت تھا کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) خونخوار فطرت کا اظہار کرتے۔آپ کے قدیم ایز اور ہندے آپ کے قدموں میں آن پڑے ہیں۔کیا آپ اس وقت بے رحمی اور بیدردی سے ان کو پامال کریں گے۔سخت عذاب میں گرفتار کریں گے یا ان سے انتقام لیں گے۔؟ یہ وقت اس شخص کے اپنے اصلی روپ میں ظاہر ہونے کا ہے۔اس وقت ہم ایسے مظالم کے پیش آنے کی توقع کر سکتے ہیں جن کے سننے سے رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور جن کا خیال کر کے اگر ہم پہلے سے نفرین و ملامت کا شور مچائیں تو بجا ہے مگر یہ کیا ماجرا ہے کیا بازاروں میں کوئی خونریزی نہیں ہوئی؟ ہزاروں مقتولوں کی لاشیں کہاں ہیں؟ واقعات سخت بیدرد ہوتے ہیں، کسی کی رعایت نہیں کرتے اور یہ ایک واقعی بات ہے کہ جس دن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دشمنوں پر فتح حاصل ہوئی وہی دن آپ کی اپنے نفس پر فتح حاصل کرنے کا دن تھا۔قریش نے سال ہا سال تک جو کچھ رنج اور صدمے دیئے تھے اور بے رحمانہ تحقیر وتذلیل کی مصیبت آپ پر ڈالی تھی۔آپ نے کشادہ دلی کے ساتھ ان تمام باتوں سے درگذر کی اور مکہ کے تمام باشندوں کو ایک عام معافی نامہ دے دیا۔(انتخاب قرآن) 81 ليا ظلم کا عفو سے انتقام عَلَيْكَ الصَّلَوةُ عَلَيْكَ السَّلَامِ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے بادشاہ ہیں سرزمین مکہ کا سب کچھ آپ کی ملکیت اور قبضہ واقتدار میں آچکا ہے۔ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آپ قیام کرنا کہاں پسند فرمائیں گے؟ حضرت اسامہ عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ آپنے آبائی گھر میں ٹھہریں گے (جہاں بچپن اور جوانی کی یادیں وابستہ ہیں) تو فرمانے لگے ہمارے چا زاد عقیل بن ابی طالب نے وہ گھر ہمارے لئے کہاں باقی چھوڑے ہیں، وہ تو کب کے فروخت کر کے کھا چکے ہیں۔(بخاری) 82 فتح مکہ پر جانی دشمنوں اور جنگی مجرموں پر احسانات فاتحین عالم کی فتوحات کی یادیں ان کی ہلاکت خیزیوں اور کھوپڑیوں سے تعمیر کئے جانیوالے میناروں سے وابستہ ہوتی ہیں مگر ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مکہ کی فتح تو آپ کے عفو عام اور رحمت تام کا وہ