اسوہء انسانِ کامل — Page 394
اسوہ انسان کامل 394 غزوات النبی میں خلق عظیم میں چاہوں گا دوں گا۔آج وہ دن آچکا تھا اور عثمان بن طلحہ لرزتے ہوئے ہاتھوں سے چابیاں خدا کے رسول کو پیش کر رہا تھا۔( ابن ھشام )76 اب د نیا منتظر تھی کہ عثمان بن طلحہ سے بطور انتقام چابیاں واپس لے لی جائیں گی اور کسی اور کے سپر دہونگی۔حضرت علی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض بھی کر چکے تھے کہ آج سے دربانی کعبہ کی خدمت بنو ہاشم کو عطا کی جائے۔اُدھر رسول خدا ﷺ بیت اللہ میں نماز پڑھ کر باہر تشریف لائے اور عثمان بن طلحہ سے ایک عجیب تاریخ ساز انتقام لیا۔آپ نے چابیاں اس کے حوالے کر دیں اور فرمایا ” آج کا دن احسان اور وفا کا دن ہے اور اے عثمان میں یہ چابیاں ہمیشہ کیلئے تمہیں اور تمہارے خاندان کے حوالے کرتا ہوں اور کوئی بھی تم سے یہ چابیاں واپس نہیں لے گا۔سوائے ظالم کے۔یہ احسان دیکھ کر عثمان بن طلحہ کا سر جھک گیا اور اس کا دل محمد مصطفیٰ " کے قدموں میں تھا اس نے ایک دفعہ پھر صدق دل سے اعلان کیا کہ میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک محمد اس کا رسول ہے۔(الحلبیہ ( 77 یہ تھا انتقام حضرت محمد مصطفی ﷺ کا اور کتنا حسین ہے یہ انتقام ! کوئی ہے جو اس کی نظیر پیش کرے؟ فتح مکہ میں جانی دشمنوں سے عفو حضور طواف سے فارغ ہو کر جب باب کعبہ کے پاس تشریف لائے تو آپ کے تمام جانی دشمن آپ کے سامنے تھے۔آپ نے اس جگہ وہ عظیم الشان تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا جس میں اپنے خونی دشمنوں کے لئے معافی کا اعلان تھا، مساوات انسانی کا اعلان تھا، کسی غرور کی بجائے فخر و مباہات کا لعدم کرنیکا اعلان تھا۔یہ معرکہ آراء خطبہ بھی دراصل آپ کے خلق عظیم کا زبردست شاہ کا ر ہے۔آپ نے فرما یا لا اله الا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ نَصَرَ عَبْدَهُ وَ هَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ ”اے لوگو! خدا ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔اس نے فتح کے جو وعدے اس عاجز بندے سے کئے تھے وہ آج پورے کر دکھائے ہیں۔اس خدائے وحدہ لاشریک نے اپنے اس کمزور بندے کی مدد کر کے اس کے مقابل پر تمام جتھوں کو توڑ کر رکھ دیا ہے۔آج تمام گذشتہ ترجیحات اور مفاخر اور تمام انتقام اور خون بہا میرے قدموں کے نیچے ہیں۔میں ان سب کو کالعدم قرار دیتا ہوں۔اے قوم قریش ! اللہ تعالیٰ نے جاہلیت کا غرور اور نام ونسب کی بڑائی ختم کر دی ہے۔تمام لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنا تھا۔پھر آپ نے یہ آیت پڑھی يَا يُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنكُمْ مِنْ ذَكَرٍو أَنثَى وَجَعَلْنَكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللهِ أَتْقَكُم (الحجرات: 14) کہ اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہارے قبیلے اور خاندان بنائے تا کہ آپ اس میں ایک دوسرے کی پہچان کرو۔یقینا خدا کے نزدیک سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔“ ( ابن ہشام ) 78 پھر آپ نے فرمایا۔اے مکہ والو! اب تم خود ہی بتاؤ میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں؟ یہاں ذرا ٹھہرئیے اور