اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 176 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 176

176 رسول اللہ کا ایفائے عہد اسوہ انسان کامل حضرت حذیفہ بن الیمان بیان کرتے ہیں کہ میرے بدر میں شامل ہونے میں یہ روک ہوئی کہ میں اور ابو سہل بدر کے موقع پر گھر سے نکلے۔راستہ میں ہمیں کفار قریش نے پکڑ لیا۔انہوں نے کہا تم محمد کے پاس جانا چاہتے ہو؟ ہم نے کہا نہیں ہم تو مدینہ جارہے ہیں۔انہوں نے ہم سے عہد لیا کہ ہم جا کر رسول اللہ کے ساتھ لڑائی میں شامل نہیں ہونگے بلکہ سیدھے مدینہ چلے جائیں گے۔ہم رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ عرض کر دیا۔آپ نے فرمایا جاؤ اور اپنا عہد پورا کر وہم دشمن کے مقابل پر دعا سے مدد چاہیں گے۔(مسلم )6 شہنشاہ روم ہرقل نے رسول اللہ کاتبلیغی خط ملنے پر اپنے دربار میں سردار قریش ابوسفیان کو بلا کر جب بغرض تحقیق کچھ سوالات کئے تو یہ بھی پوچھا تھا کہ کیا اس مدعی رسالت نے بھی کوئی بد عہدی بھی کی ہے؟ ابوسفیان رسول اللہ کا جانی دشمن تھا مگر پھر بھی اسے ہر قل کے سامنے تسلیم کرنا پڑا کہ آج تک اُنہوں نے ہم سے کوئی بد عہدی نہیں کی۔البتہ آجکل ہمارا اس سے ایک معاہدہ حدیبیہ) چل رہا ہے دیکھیں وہ کیا کرتا ہے۔ابوسفیان کہتا تھا کہ میں ہر قل کے سامنے اس سے زیادہ اپنی طرف سے کوئی بات اپنی گفتگو میں حضور کے خلاف داخل نہ کر سکا تھا۔( بخاری )7 مشرکین سے ایفائے عہد خدا کی تقدیر دیکھئے کہ رسول کریم نے معاہدہ حدیبیہ کی ایک ایک شق پر عمل کر کے دکھایا۔معاہدہ توڑنے کے مرتکب بھی پہلے قریش ہی ہوئے اور پھر عہد شکن کا انجام بھی ان کو بھگتنا پڑا۔جب کہ رسول کریم نے ایفائے عہد کی برکات سے حصہ پایا اور سب سے بڑی برکت فتح مکہ کی صورت میں آپ کو عطا ہوئی۔معاہدہ حدیبیہ کی ایک شق یہ تھی کہ مسلمان آئندہ سال عمرہ کرنے مکہ آئیں گے اور تین دن کے اندر مکہ کو خالی کر دیں گے۔چنانچہ اگلے سال جب نبی کریم عمرہ قضا کے لئے مکہ آئے تو قریش نے مکہ خالی کر دیا۔گو یطب بن عزمی بیان کرتے ہیں کہ میں اور سہیل بن عمر و مکہ میں رہے تا کہ تین دن کے بعد مسلمانوں سے حسب معاہدہ مکہ خالی کرواسکیں جب تین دن گزر گئے تو میں نے اور سہیل نے رسول اللہ کو یاد کروایا کہ آج شرط کے مطابق مسلمانوں کو مکہ خالی کرنا ہوگا۔آنحضور نے اسی وقت بلال کو حکم فرمایا کہ اعلان کر دیں کہ آج غروب آفتاب کے بعد کوئی مسلمان جو ہمارے ساتھ عمرہ کرنے مکہ آیا ہے مکہ میں نہ رہے اور بڑی سختی سے اس کی پابندی کی گئی۔(حاکم) 8 معاہدہ کی ایک شق یہ تھی کہ اگر کوئی مسلمان بھاگ کر مدینے جائے گا تو اسے واپس اہل مکہ کی طرف لوٹایا جائے گا۔اس شق پر مسلمانوں نے تکمیل معاہدہ سے بھی پہلے عمل کر دکھایا اور نمائندہ قریش کے مکہ سے بھاگ کر آنے والے مسلمان بیٹے ابو جندل کو دوبارہ اس کے باپ سہیل بن عمرو کے سپر د کر دیا گیا جس نے اسے پھر اذیت ناک قید میں ڈال دیا۔معاہدہ کے بعد بھی بعض مسلمان مکہ سے بھاگ کر مدینہ آئے تو رسول کریم نے معاہدہ کے مطابق انہیں مکہ واپس بھیجوا دیا۔مگر یہ شرط خود مکہ والوں کے لئے وبالِ جان بن گئی کیونکہ معاہدہ کے بعد مکہ سے مدینہ آنے والے ایک بہادر