اسوہء انسانِ کامل — Page 175
اسوہ انسان کامل 175 رسول اللہ کا ایفائے عہد رسول اللہ کا ایفائے عہد قرآن شریف میں عہد پورا کرنے پر بہت زور دیا گیا ہے فرمایا ”عہد پورا کرو کہ عہد کے بارہ میں پرسش ہوگی۔“ ( سورۃ الاسراء: 35 ) رسول کریم نے فرمایا جو شخص بغیر کسی جائز وجہ کے کسی معاہدہ کرنے والے کو قتل کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دے گا۔(ابوداؤد (1) نیز فرمایا جس کا عہد نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔( احمد )2 نبی کریم آغاز سے ہی امانت و دیانت اور ایفائے عہد کا بہت خیال رکھتے تھے۔آپ نے پابندی عہد میں بھی بہترین نمونہ پیش فرمایا ہے۔بعثت سے قبل حضرت عبداللہ بن ابی الحمسا کہتے ہیں کہ میں نے زمانہ بعثت سے قبل نبی کریم سے ایک سودا کیا۔ان کا کچھ حصہ میرے ذمہ واجب الادا رہ گیا۔میں نے آپ سے طے کیا کہ فلاں وقت اس جگہ آکر میں آپ کو ادائیگی کروں گا مگر میں واپس جا کر وعدہ بھول گیا۔تین روز بعد مجھے یاد آیا تو میں مقررہ جگہ حاضر ہوا۔کیا دیکھتا ہوں کہ نبی کریم اس جگہ موجود تھے۔آپ فرمانے لگے نوجوان ! تم نے ہمیں سخت مشکل میں ڈالا۔میں تین روز سے یہاں ( طے شدہ وقت پر ) تمہارا انتظار کرتا رہا ہوں۔(ابوداؤد )3 مکی دور میں بعثت سے قبل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم معاہدہ حلف الفضول میں شریک ہوئے تھے جس کا بنیادی مقصد مظلوموں کی امداد تھا۔آپ فرماتے تھے کہ اس معاہدہ میں شرکت کی خوشی مجھے اونٹوں کی دولت سے بڑھ کر ہے اور اسلام کے بعد بھی مجھے اس معاہدہ کا واسطہ دے کر مدد کے لئے بلایا جائے تو میں ضرور مدد کروں گا۔(ابن ہشام)4 بعثت نبوی کے بعد دعوی نبوت کے بعد کا واقعہ ہے کہ ایک اجنبی الا راشی کا حق سردار ملکہ ابو جہل نے دبا لیا۔اُس شخص نے آنحضرت سے آکر مدد مانگی۔حضور اُس کے ساتھ ہو لئے اور معاہدہ حلف الفضول کی پابندی کرتے ہوئے اپنے سخت معاند ابو جہل کے دروازے پر جا کر اُس مظلوم اجنبی کے حق کا تقاضا کیا۔پھر وہاں سے ہلے نہیں جب تک کہ اُس کا حق اُسے دلوا نہیں دیا۔(ابن ہشام) 5