اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 177 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 177

اسوہ انسان کامل 177 رسول اللہ کا ایفائے عہد مسلمان ابوبصیر کو جو مشرک گرفتار کر کے مدینہ سے دوبارہ مکہ لے جارہے تھے، راستہ میں وہ ان کو قتل کر کے، رہائی پانے میں کامیاب ہو گیا۔پھر ابو بصیر نے واپس مدینہ آنے کی بجائے ساحل سمندر کے قریب اپنا اڈا بنالیا جہاں دیگر مسلمان بھی مکہ سے آکر اکٹھے ہونے لگے اور ایک جمعیت بن کر اہل مکہ کے لئے خطرہ بن گئے۔جس پر مکہ والے خود یہ شرط چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔صلح حدیبیہ میں قریش کے نمائندے سہیل بن عمرو نے مسلمانوں کے ساتھ آئندہ دس سال کے لئے معاہدہ امن طے کیا تھا، جس کے مطابق بنو بکر قریش کے حلیف بنے تھے اور بنوخزاعہ مسلمانوں کے۔نیز یہ کہ کسی کے حلیف پر حملہ خود اس پر حملہ تصور کیا جائے گا۔حلیف سے ایفاء اور امداد صلح کے زمانے میں مسلمانوں کی غیر معمولی کامیابیاں دیکھ کر قریش نے معاہدہ امن تو ڑنا چاہا اور قریش مکہ کے ایک گروہ نے اپنے حلیف بنو بکر سے ساز باز کر کے ایک تاریک رات میں مسلمانوں کے حلیف بنو خزاعہ پر حملہ کر دیا۔خزاعہ نے حرم کعبہ میں پناہ لی لیکن پھر بھی ان کے تئیس آدمی نہایت بے دردی سے قتل کر دیئے گئے۔خودسردار قریش ابوسفیان کو پتہ چلا تو اس نے اس واقعہ کو اپنے آدمیوں کی شرانگیزی قرار دیا اور کہا اب محمدمہم پر ضرور حملہ کریں گے۔ادھر اللہ تعالیٰ نے آنحضرت کو اس واقعہ کی اطلاع بذریعہ وحی اسی صبح کر دی۔آپ نے حضرت عائشہ کو یہ واقعہ بتا کر فرمایا کہ منشا الہی یہی معلوم ہوتا ہے کہ قریش کی اس بد عہدی کا ہمارے حق میں کوئی بہتر نتیجہ ظاہر ہوگا۔پھر تین روز بعد قبیلہ بنوخزاعہ کا چالیس شتر سواروں کا ایک وفد رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ بنو بکر اور قریش نے مل کر بد عہدی کرتے ہوئے شب خون مار کر ہمارا قتل عام کیا ہے۔اب معاہدہ حدیبیہ کی رو سے آپ کا فرض ہے کہ ہماری مدد کریں۔بنو خزاعہ کے نمائندہ عمرو بن سالم نے اپنا حال زار بیان کر کے خدا کی ذات کا واسطہ دیکر ایفائے عہد کی طرف توجہ دلاتے ہوئے عرض کیا يَا رَبِّ إِنِّي نَاشِدٌ مُحَمَّدًا حَلْقَ أَبِيْنَا وَأَبِيهِ الَا تُلَدَا یعنی اے میرے رب ! میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تیرا واسطہ دے کر مدد کے لئے پکارتا ہوں اور اپنے آباء اور اس کے آباء کے پرانے حلف کا واسطہ دے کر عہد پورا کرنے کا خواستگار ہوں۔خزاعہ کی مظلومیت کا حال سن کر رحمتہ للعالمین ﷺ کا دل بھر آیا۔آپ کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے۔آپ نے ایفائے عہد کے جذبہ سے سرشار ہو کر فرمایا۔اے بنو خزاعہ یقینا یقینا تمہاری مدد کی جائے گی۔اگر میں تمہاری مدد نہ کروں تو خدا میری مدد نہ کرے۔تم محمد ﷺ کوعہد پورا کرنے والا اور باوفا پاؤ گے۔تم دیکھو گے کہ جس طرح میں اپنی جان اور