اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 52 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 52

اسوہ انسان کامل 52 شمائل نبوی کرتے وقت اسے حرکت دے کر انگلی کو دھوتے۔ہاتھ میں بالعموم کھجور کی شاخ کی چھڑی رکھتے تھے۔(بخاری، مسلم ، ترندی) 40 جنگ میں آپ نے خود اور زرہ بھی پہنی ہے۔غزوہ احد میں تو دوز رہیں پہن رکھی تھیں۔ایک زرہ کی کڑیاں ٹوٹ کر رخسار مبارک میں پھنس گئی تھیں۔( بخاری ) 41 چال ڈھال اور گفتگو نبی کریم چال ڈھال میں نہایت پُر وقار انسان تھے۔چال ایسی سبک تھی جیسے ڈھلوان سے اتر رہے ہوں۔حضرت ابوھریرہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ سے زیادہ تیز رفتار کوئی نہیں دیکھا ایسے لگتا تھا کہ زمین آپ کے لئے لیٹتی جارہی ہے۔ہم ساتھ چل کر تھک جاتے مگر حضور پر تھکاوٹ کا کوئی اثر نہ ہوتا تھا۔آپ گردن اکڑا کر نہ چلتے بلکہ نظریں نیچی رکھتے تھے۔(ترمذی)42 حضرت علی بیان فرماتے ہیں کہ بی کریم آگے کو جھک کر چلے تھے یوں لگا تھا جیسے گھائی سے اتر رہے ہوں ہمیں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد ایسی رفتار والا شخص نہیں دیکھا۔(ترمندی) 43 حضرت حسن بن علی اپنے ماموں ھند بن ابی ھالہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم لمبے لمبے اور تیز قدم اُٹھاتے تھے۔نظریں نیچی رکھتے تھے مگر جب دیکھتے تو نظر بھر کر پوری توجہ فرماتے ، چلتے ہوئے اپنے صحابہ سے آگے نکل جاتے تھے، اور جو بھی راستہ میں ملتا اسے سلام کرنے میں پہل فرماتے تھے۔(ابن سعد ) 44 حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم چلتے ہوئے ادھر ادھر توجہ نہیں فرماتے تھے۔بسا اوقات آپ کی چادر کسی درخت یا کانٹوں وغیرہ سے الجھ جاتی تو بھی توجہ نہ فرماتے اور صحابہ اس وجہ سے بعض دفعہ بے تکلفی سے باتیں کرتے ہوئے ہنتے اور سمجھتے تھے کہ حضور کا دھیان ادھر نہیں۔( ابن سعد ) 45 حسب ارشاد باری کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے آپ کو نرم کر دیا۔(سورۃ آل عمران : 107 ) آپ کی گفتگو میں تلخی تھی نہ تیزی ٹھہر ٹھہر کر اور سمجھا کر وضاحت اور نرمی سے آپ اس طرح کلام فرماتے کہ بات ذہن نشین ہو جاتی۔تین دفعہ بات دہراتے تھے۔( احمد ) 46 کوئی بھی عزم کر لینے کے بعد آپ خدا پر کامل بھروسہ رکھتے۔جب آپ تین دفعہ کوئی بات کہہ دیتے تو اسے کوئی ٹال نہیں سکتا تھا۔(احمد 47) لیکن آپ کبھی صحابہ کی طاقت سے زیادہ ان کو حکم نہ دیتے تھے۔(احمد) 48 آنحضور بغیر ضرورت کے گفتگو نہ فرماتے تھے اور جب بولتے تھے تو فصاحت و بلاغت سے بھر پور نہایت با معنی کلام