اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 51 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 51

اسوہ انسان کامل 51 شمائل نبوی صاع ( یعنی قریباً تین لٹر پانی سے نہا لیتے تھے غسل کی عادت زیادہ تھی۔( ترندی 32 ) آنکھوں کی حفاظت کے لئے رات کو آپ سرمہ لگاتے تھے۔(ترمذی) 33 دانتوں کی صفائی پر بہت زور دیتے ، فرماتے تھے۔"اگر امت کی تکلیف کا خیال نہ ہوتا تو ہر نماز کے ساتھ ( دن میں پانچ مرتبہ ) مسواک کا حکم دیتا۔اپنا یہ حال تھا کہ گھر میں داخل ہوتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے۔مسواک دانتوں کے آڑے رُخ یعنی نیچے سے اوپر کرتے تھے۔تا کہ درزیں خوب صاف ہوں۔(مسلم 34) بوقت وفات بھی مسواک دیکھ کر اس کی خواہش کی تو حضرت عائشہؓ نے نرم کر کے استعمال کروائی۔( بخاری ) 35 آپ محمدہ خوشبو پسند کرتے تھے۔اپنی مخصوص خوشبو سے پہچانے جاتے تھے۔حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ حضور کے پسینے سے جو خوشبو آتی تھی وہ مشک سے بھی بڑھ کر ہوتی تھی۔(دارمی (36) سر کے بال کانوں کی کو سے بڑھ کر کندھوں پر آ جاتے تو کٹوا دیتے۔داڑھی حسب ضرورت لمبے اور چوڑے رخ سے تر شواتے تھے۔جو مشت بھر رہتی تھی۔بالوں پر مہندی لگاتے تھے۔(ترمذی) 37 لباس قرآنی ارشاد کے مطابق لباس میں پردہ اور زینت کی بنیادی شرائط ملحوظ خاطر رکھتے تھے۔عام طور پر ایک تہبند اور ایک اوڑھنے کی چادر عربوں کا لباس تھا جو آپ نے بھی پہنا مگر سلا ہوا لمبی آستین والا گر تہ زیادہ پسند تھا۔بغیر آستین بھی پہنا۔(ابن ماجہ 38 ) سادہ موٹے کپڑے استعمال فرماتے۔آپ جبہ، پاجامہ اور سردی میں تنگ آستین والی روئی بھری صدری بھی استعمال فرماتے تھے۔حسب موقع وضو کے بعد پوچھنے کیلئے تو یہ بھی استعمال فرماتے۔آپ نے ٹوپی بھی استعمال فرمائی۔جمعہ کے روز کلاہ کے اوپر پگڑی پہنتے۔جمعہ عیدین اور وفود کی آمد پر عمدہ کپڑے اور خاص طور پر ایک سرخ قبا زیب تن فرماتے۔ایک چاند رات میں سرخ قبا پہنی ہوئی تھی۔دیکھنے والے بیان کرتے ہیں کہ اس رات آپ چاند سے زیادہ خوبصورت لگ رہے تھے۔سفید کپڑے زیادہ پسند تھے۔مگر سرخ سبز اور زعفرانی رنگ بھی استعمال فرمائے۔نیا کپڑا پہننے پر دورکعت نماز ادا فرماتے اور پرانا کپڑا کسی ضرورت مند کو دے دیتے تھے۔چمڑے کے موزے استعمال فرماتے اور بوقت وضوان پر مسح فرماتے۔چمڑے کے کھلے جوتے دو تسمے والے ( ہوائی چپل، سلیپر نما) استعمال فرماتے۔(ترمذی) 39 آپ کی چاندی کی انگشتری پر مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کندہ تھا جو خطوط پر مہر لگوانے کے لئے بنوائی تھی۔ایک عرصہ تک یہ انگوٹھی دائیں ہاتھ میں پہنتے رہے پھر بائیں ہاتھ میں بھی پہنی۔بیت الخلاء جاتے تو یہ انگوٹھی اتار دیتے۔وضو