اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 53 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 53

اسوہ انسان کامل 53 شمائل نبوی فرماتے۔خود بات شروع کرتے اور اسے انتہا تک پہنچاتے۔آپ کی گفتگو فضول باتوں اور ہر قسم کے نقص سے مبرا اور بہت واضح ہوتی تھی۔اپنے ساتھیوں سے تلخ گفتگو نہیں کرتے تھے۔نہ ہی انہیں باتوں سے رسوا کرتے تھے۔معمولی سے معمولی احسان کا ذکر بھی تعظیم سے کرتے اور کسی کی مذمت نہ کرتے۔کسی پر محض دنیوی بات کی وجہ سے ناراض نہ ہوتے البتہ جب کوئی حق سے تجاوز کرتا تو پھر آپ کے غصہ کو کوئی نہ روک سکتا تھا اور ایسی بات پر آپ سزا ضرور دیتے تھے مگر محض اپنی ذات کی خاطر غصے ہوتے تھے نہ انتقام لیتے تھے۔غصے میں منہ پھیر لیتے تھے۔خوش ہوتے تو آنکھیں نیچی کر لیتے۔مسکراتے تو سفید دانت اس طرح آبدار ہوتے جیسے بادل سے گرنے والے اولے۔(عیاض، ابن سعد ) 49 حضرت جابڑ کی روایت کے مطابق رسول کریم کی گفتگو میں بھی ایک ترتیب اور حسن ہوتا تھا۔(ابوداؤد 50 ) ام معبد کی روایت کے مطابق رسول اللہ شیر میں بیان تھے۔آپ کی گفتگو کے وقت ایسے لگتا تھا جیسے کسی مالا کے موتی گر رہے ہوں۔(حاکم) 51 حضرت عائشہ کی ایک اور روایت ہے کہ رسول کریم کو جھوٹ سے زیادہ نا پسند اور قابل نفرین اور کوئی بات نہیں تھی۔اور جب آپ کو کسی شخص کی اس کمزوری کا علم ہوتا تو آپ اس وقت تک اس سے کھچے کچھے رہتے تھے جب تک کہ آپ کو معلوم نہ ہو جائے کہ اس شخص نے اس عادت سے تو بہ کر لی ہے۔(ابن سعد ) 52 زیادہ تر آپ کی ہنسی مسکراہٹ کی حد تک ہوتی تھی۔مسکرانا تو آپ کی عادت تھی۔صحابہ کہتے ہیں ”ہم نے حضور سے زیادہ مسکرانے والا کوئی نہیں دیکھا۔خوش ہوتے تو آپ کا چہرہ تمتما اٹھا تھا۔(احمد) 53 آپ کی گفتگو خشک نہ تھی۔بلکہ ہمیشہ شگفتہ مزاح فرماتے تھے۔مگر مذاق میں بھی کبھی دامن صدق نہ چھوٹا۔فرماتے "میرے منہ سے صرف حق بات ہی نکلتی ہے۔“ (طبرانی) 54 ایک صحابی نے ایک دفعہ سواری کیلئے آپ سے اونٹ مانگا۔رسول کریم نے فرمایا میں تجھے اونٹ کا بچہ دے سکتا ہوں۔وہ سراسیمہ ہوکر بولے حضور اونٹنی کا بچہ لے کر میں کیا کروں گا ؟ مجھے تو سواری چاہئے فرمایا ”بھئی ! اونٹ بھی تو اونٹنی کا بچہ ہی ہوتا ہے۔“ ( ترمندی )55 صحابہ کو وعظ ونصیحت کرنے میں ناغہ کرتے تا کہ وہ اکتا نہ جائیں۔آپ کی تقریر نہایت فصیح و بلیغ دلکش اور جوش سے بھری ہوئی ہوتی تھی۔بعض دفعہ خطبہ میں یہ جوش و جلال بھی دیکھا گیا کہ آنکھیں سرخ ہیں اور آواز بلند۔جیسے کسی حملہ آور لشکر سے ڈرا رہے ہوں جو صبح یا شام حملہ آور ہونے والا ہے۔ایک دفعہ صفات الہیہ کے بیان کے وقت منبر آپ کے جوش کے باعث لرز رہا تھا۔( مسلم 56) رسول کریم کے خطبہ و نماز میں میانہ روی اور اعتدال ہوتا تھا۔(مسلم) 7 حالت جنگ میں آپ عجب مجاہدانہ شان کے ساتھ کمان حمائل کئے ایک سپہ سالار کے طور پر صحابہ سے مخاطب