اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 642 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 642

اسوہ انسان کامل 642 نبیوں میں سب سے بزرگ اور کامیاب نبی generosity, pervaded his conduct, and riveted the affections of all around him۔۔۔In the exercise of a power absolutely dictatorial, Mohammad was just and temperate۔Nor was he wanting in moderation towards his enemies, when once they had cheerfully submitted to his claims۔The long and obstinate struggle against his pretensions maintained by the inhabitants of Mecca might have induced its conqueror to mark his indignation in indelible traces of fire and blood۔But Mohammad, excepting a few criminals, granted a universal pardon; and, nobly casting into oblivion the memory of the past, with all its mockery, its affronts and persecution, he treated even the foremost of his opponents with a gracious and even friendly consideration۔" (17) ترجمہ : ”میں صرف اتنا ہی مزید کہوں گا کہ پہلے دو خلفاء ابو بکر اور عمر کی سادگی اور گرم جوشی محمد کے اخلاص پر ان کے مستحکم ایمان کی واضح دلیل ہے۔اور ان دونوں کا ایمان یقینی طور پر آپ کے کردار کی تصویر کشی میں جو ہم خود کر رہے ہیں نا قابل تردید ا ہمیت کا حامل ہے کیونکہ جو مواقع انہیں اپنے عقیدہ کو پر رکھنے کے ملے ہیں وہ قریب سے دیکھنے کیلئے لمبے عرصے پر محیط ہیں۔میرے لئے کافی ہے کہ اب اس حوالہ سے ذکر کروں کہ یہ بات محمد کے کردار کو عام طور پر تقویت بخشتی ہے جس کی میں نے شروع سے آخر تک حمایت کی ہے۔۔۔( آپکی شخصیت کا ) ایک بہترین پہلو آپ کی متانت اور توجہ ہے جس سے آپ آپنے ادنیٰ سے ادنی خدمتگار سے بھی پیش آتے۔بیجز ونرمی ، حوصلہ اور کسر نفسی اور سخاوت آپ کے کردار میں عیاں تھیں اور اپنے ارد گرد کے تمام لوگوں کے دل موہ لیتی تھی۔آپ ایک منصف مزاج اور اعتدال پسندی سے کام لینے والے مطلق العنان سر براہ سلطنت تھے۔جب آپ کے دشمنوں نے اپنی مرضی سے آپ کے دعاوی کو قبول کیا تو آپ ان سے بھی حسن سلوک کے ساتھ برتاؤ کرتے۔عین ممکن تھا کہ مکہ کے باسیوں کی طرف سے آنحضرت کے دعاوی کے خلاف لمبی اور مستقل مہم جوئی فاتح مکہ کو اپنی برتری آگ اور خون کے ان مٹ کلمات سے تحریر کرنے پر مجبور کر دیتی۔لیکن محمد نے چند مجرموں کے علاوہ سب لوگوں کیلئے معافی کا اعلان کردیا اور انتہائی خوبصورتی سے تمام ٹھٹھوں، دیدہ دلیریوں اور تکالیف کو اپنے ماضی سے گویا جانتے بوجھتے ہوئے بھلا کر، اپنے بڑے سے بڑے دشمن کے ساتھ احسان بلکہ دوستی کا سلوک روا رکھا۔“ 13۔ایس پی سکاٹ (1903ء) اپنی انگریزی کتاب "ہسٹری آف دی مورش ایمپائر ان یورپ میں نبی کریم کی زندگی کا حاصل یوں بیان کرتے ہیں:۔